محضرنامہ

by Other Authors

Page 9 of 195

محضرنامہ — Page 9

یعنی بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جو سب کے سب جہنم میں پڑ جائیں گے بجز ایک کے۔لوگوں نے پوچھا یہ کون لوگ ہوں گے یا رسول الله ؟ آپ نے فرمایا وہ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوں گے " یہ گروہ نہ کثرت میں ہوگا نہ اپنی کثرت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا بلکہ اس امت کے تہتر فرقوں میں سے ایک ہو گا اور اس معمور دنیا میں اس کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہوگی جیسا کہ فرمایا : بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَءَ فَطُوبى لِلْغُرَبَاءِ۔۔۔۔۔پس جو جماعت محض اپنی کثرت تعداد کی بناء پر اپنے آپ کو وہ جماعت قرار دے رہی ہے جس پر اللہ کا ہاتھ ہے۔۔۔۔۔اس کے لئے تو اس حدیث میں امید کی کوئی کرن نہیں کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طور پر بیان کر دی گئی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہو گی دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہو گی یا ترجمان القرآن جنوری، فروری ۶۱۹۴۵ صفحه ۱۷۶۶۱۷۵ مرتبه سید ابو الاعلیٰ مودودی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا فرمان کے بالکل بر عکس اپوزیشن کے علماء کی طرف پیش کردہ ریزولیوشن یہ ظاہر کر رہا ہے کہ امت مسلمہ کے بہتر فرقے تو جنتی ہیں اور صرف ایک دوزخی ہے جو قطعی طور پر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک کے خلاف اور آپ کی صریح گستاخی کے مترادف ہے۔لماذا موجودہ شکل میں اس ریزولیوشن پر غور کرنا بلکہ پیش کیا جانا اسلامی مملکت پاکستان کی معرز قومی امیلی کو ہر گز زیب نہیں دیتا البتہ اگر یہ قرار داد اس رنگ میں پیشیں ہو کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی