محضرنامہ — Page 110
-۲ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے۔آپؐ نے فرمایا :- قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا الا نبي بعده " (تكمله مجمع البحارم) که حضور کو خاتم النبیین تو کولیکن یہ نہ کہوکہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ ہو گا۔پھر ابن ماجہ کی حدیث جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے اس میں حضور نے فرمایا اگرمیرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی بن جاتا۔ان احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امت میں ایک قسم کی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور وہ فنافی الرسول کے ذریعہ سے نبوت کو پانے کا دروازہ ہے۔بلاشبہ ایسی احادیث کے مقابل دوسری احادیث بھی ہیں جن میں بظا ہر باب نبوت کو مسدود قرار دیا گیا ہے۔ہمارے نزدیک اصولی طور پر جملہ احادیث کا حل یہ ہے کہ جن احادیث میں نبوت کو بند قرار دیا گیا ہے اس سے مراد نئی شریعت والی یا مستقل نبوت ہے۔اور جن احادیث میں نبوت کے امکان کا ذکر ہے اس جگر غیر تشریعی اور آنتی بیوت مراد ہے۔اس طرح سے جملہ احادیث میں پوری تطبیق ہو جاتی ہے اور اس لحاظ سے جملہ احادیث قرآن مجید کی آیات سے مطابق ہو جاتی ہیں۔اس تفصیلی پہلو پر كتاب القول المبين في تفسير خاتم النبيين ملاحظہ فرمائی جائے جو بطور ضمیمہ نمبر شامل کی گئی ہے ؟ پس جملہ احادیث نبویہ کو یکجائی طور پر دیکھنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بعد نئی شریعیت لانے والے نبیوں یا مستقل نہیوں کی آمد بند ہے ہاں اتنی نبی اور تابع شریعیت محمدیہ نبی کے آنے کا امکان موجود ہے۔اسی بناء پر جملہ فرقے آنے والے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع نبی مانتے ہیں۔آنحضرت کا اُمتی نبی یقین کرتے ہیں اور یہی جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے۔