محضرنامہ

by Other Authors

Page 109 of 195

محضرنامہ — Page 109

1۔4 لکھتے ہیں : آمَا صِحَةُ الْحَدِيثِ فَلَا شُبُهَةَ فِيهَا لِأَنَّهُ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَغَيْرُهُ كَمَا ذَكَرَهُ ر الشهاب على البيضاوى جلد ، مثلا ) ابْن حَجْرٍ اہل سنت والجماعت کے مشہور صنفی امام ملا علی القاری اس حدیث کو تین طریقوں سے مروی اور قومی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :۔" توْعَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَ الْوَصَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِيسَى وَالْخِفْرِ وَالْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَا قِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِئَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ اميه یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے۔اسی طرح حضرت عمر نبی بن جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع یا امتی ہوتے جیسے عیسی ، خضر اور الیاس علیہم السلام ہیں۔یہ صورت خاتم النبیین کے منافی نہیں کیونکہ خاتم النبیین کے تو یہ معنے ہیں کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ قرار دے اور آپ کا امتی نہ ہو۔(موضوعات کبیر ملا علی القاری مث ) - مسلم شریف کی حدیث میں آنے والے مسیح موعود کو چار مرتبہ لفظ نبی اللہ کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔( صحیح مسلم جلد ۲ باب ذکر الدجال) حضور کی یہ حدیث ایک مشہور حدیث ہے :۔1) أبُو بَكْرٍ اَ فَضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلا أَن يَكُونَ نَبِيُّ (كنوز الحقائق) کہ حضرت ابو بکر امت میں سب سے افضل ہیں سوائے اِس کے کہ اُمت میں کوئی نبی پیدا ہو۔