لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 55

لجَّةُ النُّور ۵۵ اردو ترجمہ يدعى كمال الدهاء ، وهذا هو ہر ایک کمال ذہانت کا دعوی کرتا ہے، الأمر الذي يتميز به النبي ومن اور یہی وہ امر ہے جس سے نبی اور اس تبعه عن الفلسفي، فإياك أن كے متبعين فلسفیوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔تغفل عنها وتبعد من حضرة پس تو ان امور سے غافل ہونے سے اور الـعـلـيـم العلـى وقد عثرت علی خدائے علیم و برتر سے دور ہونے سے بچ۔أن هذا الزمان زمانُ الفتن یقیناً تو اس بات سے مطلع ہے کہ یہ زمانہ فتن ، والإلحاد والبدعات، وملئت الحاد اور بدعات کا زمانہ ہے۔زمین ظلم و جور الأرض ظلما وجورًا وقَلَّ عدد سے بھر گئی ہے اور نیک مردوں اور نیک الصالحين والصالحات، ومن عورتوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔اسلام پر أعظم المصائب على الإسلام سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ نئی نسل کے أن الذرية الجديدة الذين ورثوا لوگ جو اپنے مسلمان بزرگوں کے وارث شيوخهم المسلمين يجهلون بنے ہیں وہ تمام مسلمانوں کو جاہل قرار أهل الإسلام بأجمعهم ويقولون دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلسفی سچے ہیں۔اور (۴۹) إن الفلاسفة من الصادقین کہتے ہیں کہ وہ تحقیق کے اعلیٰ درجہ پر فائز وقالوا إنهم فازوا بدرجة ہیں اور اس خالص شراب سے پورے طور التحقيق، وشربوا مستوفين پر سیراب ہیں اور جہاں تک انبیاء کا تعلق من هذا الرحيق، وأما الأنبياء ہے تو انہوں نے (نعوذ باللہ ) بعض باتیں فأصابوا بعضًا وأخطأوا بعضًا صحیح کی ہیں اور بعض میں خطا کھائی ہے اور ان وكلامهم مخلوط بسدید کا کلام (نعوذ باللہ ) سچ اور جھوٹ کا آمیزہ وغير سديد۔وكانوا في الأمور ہے اور ( نعوذ باللہ ) وہ حکمت کے امور الحكمية كغبي و بلید۔فانظروا میں نجی اور کند ذہن تھے۔پس دیکھو کہ إلى أى حد بلغ أمر توهين توہین اسلام کا معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے۔