لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 54

لُجَّةُ النُّور ۵۴ اردو ترجمہ فيه أن الأنبياء يُلَقَّون العلوم من اور اس میں راز یہ ہے کہ انبیاء کو علوم خدائے الله العليم الحكيم، والله لا يغفل علیم و حکیم کی جناب سے القاء کیسے جاتے ہیں۔عن النهج القويم، بل يجمع فی اور اللہ تعالیٰ راہ ہدایت سے غافل نہیں بلکہ وہ بیانه علومًا صحيحة ودلائل اپنے بیان میں ایسے علوم صحیحہ اور بصیرت افروز مبصرة توصل إلى الصراط دلائل جمع کرتا ہے جو کہ صراط مستقیم تک پہنچاتے المستقيم لما لا يجوز علیه ہیں۔کیونکہ غفلت اُس کے شایانِ شان نہیں۔الذهول۔وهو نور كامل تنزه وه تو کامل نو ر ہے اور اس کی شان غلط رائے کی شأنه عن ظلمة الرأى السقيم ظلمت سے مبرا ہے، مگر جہاں تک بندے کا وأما العبد فلا بد له أن يغفل عن تعلق ہے ضرور ہے کہ وہ ایک چیز پر دھیان شيء دون شيء ، ويذهل عن أمر دینے کی وجہ سے دوسری چیز سے غفلت عند أخذ أمر آخر، ولیس فی یدہ برتے ، اور ایک کام کرتے وقت دوسرے کو قانون عاصم من الذهول فراموش کر دے ، اور اس کے ہاتھ میں بھول (۳۸) والخطأ۔وأما صناعة المنطق چوک اور خطا سے بچانے والا کوئی قانون فمتاعٌ سَقَط، وليست بعاصمة نہیں ، اور جہاں تک فن منطق کا تعلق ہے تو وہ قط من هذه الهوجاء۔وقد ضلت روی متاع ہے اور وہ اس تند و تیز آندھی سے الحكماء الفلاسفة مع اتخاذهم ہرگز بچا نہیں سکتی۔اور فلسفی دانا! اس (یعنی هذه الصناعة إمامًا، وكثرت في منطق) کے فن کو اپنا امام بنا کر گمراہ ہو گئے آرائهم الاختلافات والتناقضات اور ان کی آراء میں اختلافات، تناقضات والشبهات، فما استطاعوا أن اور شبہات کی کثرت ہے اور وہ یہ استطاعت يقطعوا بها خصامًا، فلذالك نہیں رکھتے کہ اس کے ذریعہ سے جھگڑوں کو تجد الفلاسفة يُخالف بعضُهم ختم کر سکیں۔اسی لئے تو فلسفیوں کو آراء میں بعضًا في الآراء ، وكلُّ أحدٍ منهم ایک دوسرے کے مخالف پائے گا اور ان میں سے