لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 56

لجَّةُ النُّور ۵۶ اردو ترجمہ الإسلام۔و إن هذا لهو البلاء يقيناً یہ ایک کھلی کھلی آزمائش اور عظیم مصیبتوں الـمـبـيـن ومـن الــدواهي العظام۔میں سے ہے۔یہ مقام تقاضا کرتا ہے کہ ويقتضى هذا الموطن أن ينزل آسمان سے نور نازل ہو۔جیسا کہ اندھوں نور من السماء ، كما خرجت اور جاہلوں کے دلوں کی زمین سے خوفناک ظلمات مخوّفة من أرض قلوب تاريكياں پیدا ہوئی ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ اس العميان والجهلاء ، ليوفى الله مقام کو اس کا پورا پورا حق دے، اور ان الموطنَ حقَّه و يُدرك الذين لوگوں کو آلے جو تباہی کے کنارے پر ہیں ، كانوا على شفا التباب، وهذا اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جیسا کہ اہل عقل من سنن الله کما لا یخفی پر پوشیدہ نہیں۔بے شک یہ زہر یں اس حد على أولى الألباب۔ولا شك تک سرایت کر چکی ہیں کہ اہل بصیرت و أن هذه السموم بلغت إلى حدّ عرفان کی عقلیں تو کجا عورتوں اور بچوں کے ۵۰ أحستُ بها قلوب النسوان دلوں نے بھی اس کو محسوس کیا ہے۔ان والصبيان، فضلا عن عقول زہروں کا معاملہ معمولی نہیں ہے بلکہ ابتدائے أهل البصيرة و العرفان، آفرینش سے لے کر اس موجودہ زمانے تک وما كان أمرها هينا بل لا يوجد اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔اور ان نے سابقہ نظيرها من بدو الخلقة إلى هذا زمانه كى زہروں کی ہلاکت کی نسبت زیادہ کی الأوان، وأهلكت أكثر مما ہلاک کیا ہے۔دلوں کے کسی گوشے میں بھی أهلكت سموم سابق الزمان۔خدا کا خوف باقی نہیں رہا اور ان دلوں پر وما بقى خوف الله في زاوية اس دنیا اور اس کے دھندوں کی محبت من زوايا القلوب، ووسعها حبُّ معشوق کی طرح چھا گئی ہے۔پس لوگوں کے الدنيا وشغفها كالمحبوب دلوں میں جو باتیں پیدا ہوئیں ان کے فخلق في السماء بحذاء ما بالمقابل آسمان پر ان کا مداوا پیدا کیا گیا، تاکہ