لُجَّةُ النّوْر — Page 141
لجَّةُ النُّور ۱۴۱ اردو ترجمہ التي تُحشر عليها الأموات، جس پر مردے اٹھائے جائیں گے۔اور جس سے وتُمحى بها الضلالات گھر گراہیاں مٹائی جائیں گی۔دن چڑھ آیا ہے پس الضحي فَلْيَرَ مَن يرى۔وإن الله دیکھنے والا دیکھ لے۔یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ معنا وظله ظلیل، وکل رداء ہے اور اس کا سایہ فراخ ہے ہم جو بھی چادر اوڑھتے نرتديه جميل وإنا موفّقون ہیں وہ خوبصورت لگتی ہے۔ہم تو فیق یافتہ ہیں۔(۱۳۲) تواتينا الأقلام، كأنها السهام قلمیں ہم سے موافقت کرتی ہیں گویا کہ وہ نیزے ومن عارضنا فهو ذليل، وليس ہیں۔جو بھی ہمارے مقابل پر آئے گا وہ ذلیل له على دعواه دلیل ولن يُزدھی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اپنے دعوی کی کوئی عَرَضُنا فإنه من نور العرفان، ولا دلیل ہے، ہماری متاع کبھی حقیر نہیں سمجھی جائے گی يداس عرضنا فإنه من عرض الله کیونکہ وہ عرفان کے ٹور سے ہے۔اور ہماری وظِلُّ عزّة ربنا المستعان۔رُويد عزت کبھی پامال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اللہ کی عزت بنى قومى بعض الشحناء ، فإنكم سے وابستہ اور ہمارے مددگار خدا کی عزت کا ظلّ لا تستطيعون أن تحاربوا حضرة ہے۔اے میری قوم کے بیٹو! اپنے بغض کچھ تو کم الكبرياء۔وقد بلجث آیاتی کردو۔کیونکہ تم یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ حضرت وظهرت علاماتي۔وإن الله أرغم كبرياء سے جنگ کر سکو۔یقیناً میرے نشانات المَعاطِس بآى السماء ، واقتاد روشن ہو گئے اور میری علامات ظاہر ہوگئیں اللہ الشوامس بسوط بُروق اليد تعالی نے آسمانی نشانات سے ان کی ناکیں خاک البيضاء۔وترون خيلنا شلن علی میں ملا دیں اور ید بیضاء کی چمک دمک کے کوڑے العدا كالبازی علی العصفور، أو سے سرکش گھوڑوں کو مطیع کر لیا۔اور تم دیکھتے ہو کہ الصقر على الغراب المذعور ، ہمارے گھوڑے دشمنوں پر اس طرح جھپٹتے ہیں فركنوا إلى الإحجام، وكفوا جیسے باز چڑیا پر یا عقاب خوف زدہ کوے پر۔پس ألسنهم من استخفاف خير الأنام وہ پسپائی پر مجبور ہو گئے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ