لُجَّةُ النّوْر — Page 140
لجة النُّور ۱۴۰ اردو ترجمہ من الخيلاء والاستعلاء۔وإذا شمار کرتا ہے۔جب وہ کسی رفیق کی نیکی واحسان رأى جميلا من الزميل ، أو وجد دیکھے یا مہمان سے کوئی تحفہ پائے تو اُس کا شکر ادا نَزَلا من النزيل، فما شكر له نہیں کرتا جیسا کہ صلحاء کی سیرت ہے۔بلکہ تیوری كما هو سيرة الصلحاء ، بل چڑھائے ہوئے اُسے قبول کرتا ہے، اور کمینے أخذ عابسًا و ذهب مُعرِضًا لوگوں کی طرح اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے۔كالسفهاء۔وإذا جاءه ضيف، اگر اس کے پاس کوئی مہمان آجائے تو سرما ہو یا شتاءً كان أو صيفًا، فما أكرمه گر ماوه خدمت ، دلی تواضع اور نرم گفتگو سے اس کی (۱۳) بالخدمة وتواضع الجنان ولین تکریم نہیں کرتا۔اس سے یہ بھی نہیں پوچھتا کہ تم اللسان، وما استفسر این بات نے رات کہاں گزاری اور کیا کھایا بلکہ اس کا دل تنگ وما أكل بل ضاق ذرعا پڑ جاتا ہے اور وہ شیطان کی طرح ہو جاتا ہے۔اور وصار كالشيطان۔وإذا صار من جب وہ دولتمندوں میں سے ہو جائے تو لوگوں کو اپنی أغنياء فيخيب الناسَ مِن معارف | بخشیش سے محروم رکھتا ہے خواہ وہ اُس کے آشنا ہی ولو كانوا من معارف۔هذه ہوں۔یہ اُن کے حالات ہیں اور قریب ہے کہ اُن حالاتهم، وكاد أن تنعدم جهلا تهم۔کی جہالتیں معدوم ہو جائیں کیونکہ میں جھوٹ کے وإنّى أنا موتُ الزور، وحِرُزُ لئے موت اور خوف زدہ کے لئے تعویذ ہوں۔میں المذعور، وأنا حربةُ المولى خدائے رحمن کا حربہ ہوں، اور جزا سزا کے مالک خدا الرحمن، وحُجّة الله الديان، وأنا کی حجت ہوں، میں دن ہوں، سورج ہوں، راستہ النهار والشمس والسبيل، وفی ہوں، میری ذات میں تمام نوشتے پورے ہوئے اور نفسى تحققت الأقاويل، وہی میرے ذریعہ ہی سب باطل چیزیں باطل ہوئیں۔أبطلت الأباطيل، وأنا الواصف میں ہی وصف بیان کرنے والا اور میں ہی موصوف والموصوف، وأنا ساق الله ہوں۔میں ہی اللہ کی بے نقاب پنڈلی ہوں، اور المكشوف، وأنا قَدَمُ الرسول میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قدم ہوں