لباس — Page 78
80 میاں بیوی کے حقوق و فرائض nature and destiny of man۔" (Collier Encyclopaedia vol۔16 P۔690) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس برس کے قریب ہوئی تو ( حضرت ) خدیجہ سے آپ کی شادی ہوئی جو ایک امیر اور شریف النفس بیوہ خاتون تھیں اور خاندانی امور میں بھی خاص انتظامی سلیقہ رکھتی تھیں۔اس شادی کے بعد آنحضرت کو حقیقی سکون اور مسرت میسر آئی اور آپ اس قابل ہو گئے کہ انسانی فطرت اور اس کے مقصد حیات سے متعلق پیچیدہ مسائل میرسلسل غور وفکر کرسکیں۔تمام ازواج مطہرات کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مثالی محبت تھی۔ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت صفیہ انتہائی حسرت کے ساتھ بولیں " کاش آپ کے بجائے میں بیمار ہوتی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے اس اظہار محبت پر جب تعجب کیا تو آپ نے فرمایا : دکھاوا نہیں ہے بلکہ سچ کہہ رہی ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کے اس پیارے نبی شہنشائے دو جہاں تاج المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا نمونہ ہماری خواتین کے لئے مشعل راہ ہے۔کس قدر سادہ ہے۔تکلف و تصنع نام کی کوئی چیز نہیں۔نہایت صبر و شکر کے ساتھ آپ تمام ازواج مطہرات نے محض اور محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی میں زندگی گزاری۔اور آج ہماری خواتین ہیں جو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو عار مجھتی ہیں۔خاوند پر اُس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالتی ہیں۔خاوند کے نہ چاہتے ہوئے بھی رات کو باہر نکل کر بازار میں ہوٹلوں میں کھانا کھانے کی عادت بعض عورتوں نے اپنالی ہے۔جو بالآخر طلاق پر منتج ہوتی ہے۔