لباس

by Other Authors

Page 67 of 124

لباس — Page 67

69 --+9 میاں بیوی کے حقوق و فرائض نہیں کر پاتا ، قیامت کے دن وہ شخص خدا کے حضور ایسی حالت میں لایا جائے گا کہ اس کا آدھا دھڑ مفلوج ہوگا۔ابن حیان ) اس ضمن میں سب سے بڑا حسین اُسوہ تو ہمارے آقا ومولیٰ سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، جنہوں نے اپنی ازواج مطہرات سے ہمیشہ عدل کا برتاؤ کیا اور اُن سے وہ حسن سلوک برتا جو ہمارے لئے رہتی دنیا تک بطور نمونہ قائم رہے گا۔آپ نے بیویوں میں باریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔اپنے عمل سے یا قول سے نہ تو کبھی کسی کی حوصلہ شکنی فرمائی اور نہ حق تلفی۔حضرت مسیح موعود نے بھی متعدد بار ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والوں کو عدل اختیار کرنے کی نہ صرف تلقین فرمائی بلکہ عورتوں کو مخاطب ہو کر اس معاملہ میں درج ذیل نصیحت فرمائی : ”اے عورتو! فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اُس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں۔اگر عورت مرد کے تعدد ازدواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم ضلع کراسکتی ہے۔خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں اپنی شریعت میں ان کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی۔سو تم اے عورتو! اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں ، خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلاء سے محفوظ رکھے۔بلکہ وہ مرد سخت ظالم اور قابل مؤاخذہ ہے جو دو جور میں کر کے انصاف نہیں کرتا۔اے عور تو اگر تم خود خُدا کی نافرمانی کر کے قہر الہی مت بنو۔ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔اگر تم خُدا تعالیٰ کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جاوے گا۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 81)