لباس — Page 28
30 میاں بیوی کے حقوق و فرائض نہیں دیتا۔باوجود اس بات کے کہ وہ مالک ہے تو پھر مرد کے مقابلہ میں عورتوں کو آزادی ضمیر کیوں حاصل نہیں۔اس کے برخلاف دوسری حد بھی خطرناک ہے جو عورتوں کی طرف سے ہے۔قومون کا لفظ بھی آخر کسی حکمت کے ماتحت ہے۔یہ قانون خدا کا بنایا ہوا ہے جو خود نہ مرد ہے نہ عورت۔اس پر طرف داری کا الزام نہیں آسکتا۔پس ایسی ہستی کے قوانین شافی ہو سکتے ہیں۔عورت عموماً عورت کی طرف دار ہوتی ہے اور مرد کے طرف دار مرد۔مگر خدا کو دونوں کا پاس نہیں۔وہ خالق ہے۔جو طاقتیں اس نے مرد کو دی ہیں ان کا اس کو علم ہے اور انہی کے ماتحت اُس نے اختیارات دیئے ہیں۔قوموں کے بہر حال کوئی معنے ہیں جو عورت کی آزادی اور حریت ضمیر کو باطل نہیں کرتے۔اس کے لئے عورت کے افعال، اس کے ارادے ، اس کا دین و مذہب قربان نہیں ہو سکتے مگر قومون بھی قربان نہیں ہو سکتا۔نہ اس کا وجود ( لفظ پڑھا نہیں جار ہا۔ناقل ) ہو۔قوم نظر آنا چاہئے۔اس کے متعلق مثال بیان کرتا ہوں۔شریعت کا حکم ہے کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے۔مگر اس کے باوجود مرد عورت کو اس کے والدین سے ملنے سے نہیں روک سکتا۔اگر کوئی مرد ایسا کرے تو یہ کافی وجہ خلع کی ہوسکتی ہے۔والدین سے ملنا عورت کا حق ہے مگر وقت کی تعیین اور اجازت مرد کا حق ہے۔مثلاً خاوند یہ کہ سکتا ہے کہ شام کو نہیں صبح کوئل لینا یا اس کے والدین کو اپنے گھر بلالے یا اس کو والدین کے گھر بھیج دے۔“ (خطبات محمود جلد سوئم صفحہ 205-206) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک اور موقعہ پر میاں بیوی کے حقوق اور فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک دوسرے کو اطاعت کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :