لباس — Page 27
29 میاں بیوی کے حقوق و فرائض عورتوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرو گے تو یا درکھو تم پر بھی ایک اور ہستی نگران ہے۔“ قومون کے لفظ میں حکمت : خطبات محمود جلد سوئم صفحہ 174-175) اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں۔خدا کے نزدیک دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔جس طرح مرد خدا کا بندہ ہے اسی طرح عورت خدا کی بندی ہے۔جیسے مرد خدا کا غلام ہے ویسے ہی عورت خدا کی لونڈی ہے۔جیسے مرد آزاد اور خر ہے ویسے ہی عورت آزاد ہے۔دونوں کو حقوق حاصل ہیں۔بعض مرد اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ کے ماتحت عورتوں پر حاکم ہیں، حالانکہ ان کو درجہ نگرانی کا ملا ہے۔مگر نگرانی سے حریت میں فرق نہیں پڑتا۔بادشاہ نگران ہے۔خلیفہ نگران ہوتا ہے۔اسی طرح حاکم وقت نگران ہوتا ہے۔مگر کیا کوئی حکم یا قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ جو چاہیں معاملہ کر لیں۔نگران تو اس بات کا ہوتا ہے کہ جو حق اس کو ملا ہے اسے وہ شریعت کے احکام کے مطابق استعمال کرے۔نہ یہ کہ جو چاہے کرے۔نگران کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو شریعت کے ماتحت چلائے مگر ہمارے ہاں اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ جو چاہا کر لیا۔اس وجہ سے بعض لوگ عورتوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔وہ ان کو گائے بکری سمجھتے ہیں۔اور عورتوں پر جبر یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایسی حکومت تو خدا بھی نہیں کرتا۔وہ تو کہتا ہے تم وہی کہو جو تمہاری ضمیر کہتی ہے۔پھر خدا بھی بغیر اتمام حجت کے سزا