لباس

by Other Authors

Page 26 of 124

لباس — Page 26

مرد کی افسری سے مراد : 28 حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میاں بیوی کے حقوق و فرائض یہ طریق افسری اور ماتحتی کا جو میاں بیوی کے درمیان رکھا گیا ہے محض اس لئے کہ تا دونوں بغیر کسی قسم کی شکر رنجی کے ایک دوسرے کا تعاون کر سکیں۔مرد کی اس افسری کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی وجہ سے عورت سے مرد کے حقوق کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاتَّقُوا اللہ پہلے تو اصل منبع کی طرف توجہ دلائی کہ انسان کی تم اولاد ہو۔کیا مرد اور کیا عورت۔یہ نہیں فرمایا کہ مرد کو ہم نے افسری کے لئے پیدا کیا ہے۔اور عورت کو ماتحتی کے لئے۔ایسا قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا۔اگر کچھ آیا ہے تو دونوں کے لئے آیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً لے کہ تم تسکین اور آرام حاصل کرو۔اس طرح کہ تم بیوی سے محبت کرو اور بیوی تم سے محبت کرے۔تم بیوی پر مہربانی کرو اور بیوی تم پر مہربانی کرے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے عورتوں کو مردوں کے تقویٰ کے لئے بطور بنایا ہے۔حالانکہ صرف عورتیں مردوں کے لئے نہیں بنائی گئیں بلکہ مرد بھی عورتوں کے لئے بطور بنائے گئے ہیں۔حُرنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ حض عورت مرد کے لئے نہیں بلکہ مرد بھی عورت کے لئے ہے اور ذمہ داریاں دونوں کی برابر ہیں۔ہاں درجوں میں تفاوت ہے۔جیسے اشتراک اور تعاون قائم رکھنے کے لئے پریذیڈنٹ اور امیر کو درجہ دیا جاتا ہے۔بڑے سے بڑا اگر اس کو کچھ فائدہ ہے تو یہی کہ اس کی رائے زیادہ سُنی جائے گی۔حقوق میں وہ کوئی زیادہ نفع حاصل نہیں کر سکتا۔اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مسئلہ کو نہ مجھو گے اور تقویٰ سے کام لے کر