کتابِ تعلیم — Page 83
A ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا ہے۔اس آیت سے یہ صاف طور پر معلوم ہوتا ہے۔کہ جیسا کہ بعض عام خام خیال کو تاہ فہم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔کہ ہر ایک آدمی کو جہنم میں ضرور جانا ہو گا۔یہ غلط ہے۔ہاں اس میں شک نہیں کہ تھوڑے ہیں جو جہنم کی سزا سے بالکل محفوظ ہیں اور یہ تعجب کی بات نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (سبا: (۱۴) ر تفسیر سوره مائده تا سوره تو به طلا) ۴۶ دوخت انسان کی دو خوبیاں ظلوما جهولا إِنَّا عَرَضْنَا الأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَا بَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَاشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس مراد عشق اور محبت اپنی اور مورد ابتداء ہو کہ پوری اطاعت کرتا ہے۔آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا۔جو بظا ہر قوی ہیکل چیزیں تھیں سو اُن سب چیزوں نے اس امانت کے اُٹھانے سے انکار کردیا اور اس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں۔مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا۔کیونکہ انسان میں یہ دو خو بیاں تھیں۔ایک یہ کہ وہ خدا تعالے تی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا۔دوسری یہ خوبی کہ وہ خدا تعالیٰ :- الاحزاب : ۷۳