کتابِ تعلیم — Page 82
میری ضروریات ہی حاصل ہو سکتی تھیں اور نہ ہی وہ میرے لئے کافی ہو سکتے تھے۔پھر وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور ثابت قدمی دکھانے سے خدا کو اپنا متولی پاتا ہے۔اس وقت اس کو بڑی راحت حاصل ہوتی ہے۔اور ایک عجیب طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔خصوصاً جب خدا کسی کو خود کہے کہ میں تیرا مستولی ہوا۔تو اس وقت جو راحت اور طمانیت اس کو حاصل ہوتی ہے وہ ایسی حالت پیدا کرتی ہے کہ جس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ حالت تمام تلخیوں سے پاک ہوتی ہے۔دنیاوی حالتوں میں انسان تلخی سے خالی نہیں ہو سکتا۔دشت دنیا کانٹوں اور تلخیوں۔بھری ہوئی ہے۔دشت د نیا جزو د و جز دام نیست جزه بخلوت گاه حق آرام نیست سے جن کا اللہ تعالیٰ متولی ہو جاتا ہے۔وہ دنیا کے آلام سے نجات پا جاتے ہیں اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔د تفسیر سوره مائده تا سوره توبه از حضرت مسیح موعود من ۲ ۲۱۹) اللہ تعالیٰ کے لئے وقف نہ کر نیوالے کی سنرا وَلَقَدْ ذَرَانَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِ وَالاِنْسِ۔رسورہ الاعراف : ۱۸) انسان اگر اللہ تعالی کے لئے زندگی وقف نہیں کرتا۔تو وہ یا درکھے کہ