کتابِ تعلیم — Page 49
۴۹ اعمال سے اس کے لئے مقررہ ہوئی ہے وہ دُور کی جاتی ہے۔و ملفوظات جلد چهارم مش (۱۵) 16 اللہ تعالیٰ کا خوف مکروہات منہیات سے بچ کر نقوی طہارت عطا کرتا ہے" الا بذكرِ اللهِ تَطْمَئِنُ القُلوب۔اس کے عام معنی تو یہی ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے اس سے اس کے دل پر ایک خوف عظمت الہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے ، اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کے ملائکہ اس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اس پر کھولا جاتا ہے۔اس وقت وہ اللہ تعالٰی کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراء انوراء طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔پھر اس کے دل پر کوئی ہم و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔اسی لئے دوسرے مقام پر آیا ہے۔لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَعْزَ اون۔اگر کوئی ہم وغم واقع بھی ہو تواللہ تعالیٰ اپنے الہام سے اس کیلئے خارجی اسباب ان کے دُور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے یا خارق عادت صبران کو عطا کرتا ہے۔لملفوظات جلد چهارم ف۲) =; الرعد : ۲۹ : - یونس : ۶۳ به