کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 159 of 162

کتابِ تعلیم — Page 159

۱۵۹ (1) خداوندا ا تو اپنا فضل کرو سے ہیں خالی ظرف تو فضلوں سے بھر سے ترے فضل و کرم کی ہے ہمیں اس بجز اس اس کے کچھ بھی نہیں پاس تو وہ قادر ہے جب قدرت دیکھائے تو ہر مایوس بھی رحمت کو پائے ہے تو ہی عاجزوں کا اک سہارا تیرے بن کون ہے یارب ہمارا تو اپنے فضل کے سب کھول دے در تو اپنی شان رحمت کو عیاں کر ہمارے عیب ڈھا نپ اپنے کرم سے رہائی بخش ہر رنج و الم سے سزاؤں کے عوض رحمت عطا کہ گنہ گاروں کو بخشش سے رہا کر تو غمگینوں کا ہو دلدار مولا تو ہے ستار اور غفار مولا ترا فضل وکرم جو یار ہو وے تو بیٹا عاجزوں کا پار ہوئے ہر اک ظلمت سے ہم کو دور رکھیو ہمارا جان و دل پر نور رکھیں محبت عشق کے ساغر پلائے حیات عشق سے مرد سے جلا دے تو ہم سب کا بڑا محبوب بن جا ہماری جان کا مطلوب بن جا تو اسماعیل مرزا پر کرم کہ تو اس کی اہلیہ کا دور غم کر بنا ادریس اور یونس کو کامل رہے رحمت ہمیشہ ان کے شامل ہر اک برکت کی بارش سب پہ برسا عطا ہو سب کو فیض دین و دنیا تیرے فضلوں کے ہم سب اک نشان ہوں تیرے پیارے بھی ہم پر مہرباں ہوں ہیں ہم سب ہی تیرے محتاج یا رب تو محتاجوں کی رکھ لے لاج یا رب سری یہ عرض ہے منظور کرے گنہ گاروں کو ہاں مغفور کرلے