کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 141 of 162

کتابِ تعلیم — Page 141

۱۴۱ اور درندہ بنا دیا ہے۔مگر میں تمہیں بابارہ ہی نصیحت کر تا ہوں کہ تم ہرگز ہرگز اپنی ہمدردی کے دائرہ کو محدود نہ کرو۔اور ہمدردی کے لئے اس تعلیم کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔یعنی إن الله يأمر بالعدل والاحسان و ايتاى ذى القربي النخل) یعنی اول نیکی کرنے میں تم عدل کو ملحوظ رکھو۔جو شخص تم سے نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ نیکی کرد۔اور پھر دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اس بڑھ کر اس سے سلوک کرو۔یہ احسان ہے۔احسان کا درجہ اگرچہ عدل سے بڑھا ہوا ہے اور یہ بڑی بھاری نیکی ہے لیکن کبھی نہ کبھی مکن ہے احسان والا اپنا احسان جتلا دے۔مگر ان سب سے بڑھ کر ایک درجہ ہے کہ انسان ایسے طور پر نیکی کرے جو محبت ذاتی کے رنگ میں ہو جس میں احسان نمائی کا بھی کوئی حصہ نہیں ہوتا۔جیسے ہاں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے وہ اس پرورش میں کسی اجر اور صلے کی خواستگار نہیں ہوتی بلکہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو بچے کے لئے اپنے سارے سکھ اور آرام قربان کر دیتی ہے یہاں تک کہ اگر کوئی بادشاہ کسی ماں کوحکم دید سے کرتو اپنے بچہ کو دودھ مت پہلا اور اگر ایسا کرنے سے بچہ ضائع بھی ہو جاوے تو اس کو کوئی سزا نہیں ہوگی تو کیا ماں ایسا حکم مشن کر خوش ہو گی ؟ اور اسکی تعمیل کرے گی ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اپنے دل میں ایسے بادشاہ کو کو سے گی کہ کیوں اس نے ایسا حکم دیا۔پس اس طریق یہ نیکی ہو کہ اسے طبعی مرتبہ تک پہنچایا جاوے۔کیونکہ جب کوئی شئے ترقی کرتے کرتے اپنے طبعی کمال تک پہنچے جاتی ہے اس وقت وہ کامل ہوتی ہے"۔ملفوظات جلد چهارم (۲۱۲)