کتابِ تعلیم — Page 140
10 ایام جاہلیت میں میں نے بہت خرچ کیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھے ہوگا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا کہ یہ اسی صدقہ و خیرات کا ثمرہ تو ہے کر تو مسلمان ہو گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالی کسی کے ادنی فعل اخلاص کو بھی ضائع نہیں کرتا۔اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کی ہمدردی اور خبر گیری حقوق اللہ کی حفاظت کا باعث ہو جاتی ہے۔پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اُسے چھوڑ دے اور اس سے دُور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے جیسا کہ سعودی نے کہا ہے۔بنی آدم اعضائے یک دیگراند یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرد نہیں ، ہمیں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرد۔خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہویا مسلمان یا کوئی اور میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ان میں بعض اس قسم کے خیالات بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایک شیرے کے مٹکے میں ہاتھ ڈالا جاوے اور پھر اس کو تلوں میں ڈال کر تیل لگائے جاویں تو جس قدر تیل اس کو لگ جا دیں۔اس قدر دھوکا اور فریب دوسرے لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ان کی ایسی بے ہودہ اور خیالی باتوں نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ان کو قریباً وحشی