کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 112 of 162

کتابِ تعلیم — Page 112

۱۱۲ ان سلسلہ کی درازی میں ایک لذت پاتا ہے اور ان کو بڑھاتا چلا جاتا ہے تب وہ قابل مواخذہ ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان میں عربیت شامل ہو جاتی ہے۔جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا ہے۔اس بات کو خوب یاد رکھو کہ کلام نفسی دو قسم کا ہوتا ہے کی بھی شیطانی جو خیالی فسق و فجور کے سلسلہ میں چلا جاتا ہے۔اور آرزوؤں کے ایک لمبے سلسلہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جب تک انسان ان دونوں سلسلوں میں پھنسا ہوا ہے۔اُسے شیطانی دخل کا بہت اندیشہ ہوتا ہے اور اس امر کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ اس طرح سے نقصان اُٹھائے اور شیطان اُسے زخمی کر دے مثلاً کبھی کوئی منصوبہ باندھتا ہے کہ فلاں شخص میری فلاں مغرض اور مقصد میں بڑا محل ہے اُسے مار دیا جائے۔یا فلاں شخص نے مجھے تو کر کے بلایا ہے اس کا بدلہ لیا جائے۔اور اس کی ناک کاٹ دی جائے غرض اسی قسم کے منصوبوں اور ادھیڑ بن میں لگا رہتا ہے۔یہ مرض سخت خطرناک ہے۔وہ نہیں سمجھتا کہ ایسی باتوں سے نفس کا کیا نقصان کر رہا ہوں اور اس سے میری اخلاقی اور روحانی قوتوں پر کس قسم کا برا اثر پڑ رہا ہے اسلئے اس قسم کے خیالات سے ہمیشہ بچنا چاہیئے۔جب کبھی کوئی ایسا بیہودہ سلسلہ خیالات شروع ہو تو فورا اس کے رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔استغفار پڑھو۔لاحول کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی مدد اور توفیق چا ہو۔اور خُدا تعالیٰ کی کتا کے پڑھنے میں اپنے آپ کو مصروف کردو اور یہ سمجھ لو کہ اس قسم کے خیالی سلسلہ سے کچھ فائدہ نہیں۔بلکہ سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔اگر دشمن سر بھی جا دے تو کیا اور زندہ رہے تو کیا ؟ نفع نقصان کا پہنچا نا خدا تعالی کے قبضہ و اختیار میں ہے کوئی شخص کسی کو