کتابِ تعلیم — Page 110
١١٠ اپنے لئے پسند کر لیتا ہے نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے۔بلکہ اس وجہ سے کہ خداوند علیم و حکیم اس کو اس طرف توجہ بخشتا ہے، تا روحانی تعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر ان مجاہدات شاقہ کے اُٹھانے کے لئے تیار ہو جائے۔جیسا کہ کسی کا شعر ہے - چشم شهبازه کاردانان شکار از بهر کشادن ست گرد وخته اند سو اسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطرا در گدازش اور ہم وغم کے غلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں۔تو پھر جسم ناتواں ان کا روح کی رفاقت کے لئے از سر نو قوی اور توانا ہو جاتا ہے۔د روحانی خزائن جلد ۳ مت - توضیح مرام) ۱۵ نفس کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اُسے پاک کھا جائے اصل امر یہ ہے کہ انسان کا نفس کچھ ایسا واقع ہے۔کہ ایسے طریق کو زیادہ پسند کر لیتا ہے جس میں کوئی محنت اور مشقت نہیں مگر تیمی پاکیزگی بہت سے دیکھ اور مجاہدات کو چاہتی ہے اور وہ یا نہ ندگی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک انسان موت کا پیالہ نہپی نے یہ (روحانی خزائن جلد ۲۱ ص۳۵)