کتاب محفوظ — Page 7
صاحب پر بھی الہانا نازل ہوئیں وہ آیات یہ ہیں۔ا - قل يايها الناس إني رسول الله اليكم جميعا ۲ - سراجا منیرا pr ۴ - يا ايها المدثر - وما ارسلنک الا رحمة للعالمين ۵ - انا اعطیناک الکوثر مذکورہ بالا آیات پر مصنف رسالہ تبصرہ یہ کرتا ہے کہ ان آیات بینات پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے اور یہ کہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مندرجہ بالا تمام آیات میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے۔اس کے ساتھ ہی اس نے حضرت مرزا صاحب پر زبان طعن بھی دراز کی ہے۔جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے، بالکل لغو اعتراض ہے۔اسے تحریف قرآن کا نام دینا محض جہالت ہے کیونکہ جو الفاظ الہام کے ہیں وہی بعینہ قرآنی آیات کے ہیں اس سے قرآن کریم میں ردو بدل کیسے ہو گیا؟ قارئین کرام! دیکھنا یہ ہے کہ - کیا آیات قرآنیہ کسی امتی پر الہاما نازل ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ ۲۔کیا وہ آیات جن میں خاص طور پر ہمارے آقا و مولی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا گیا ہے وہ کسی امتی پر الہاما نازل ہو سکتی ہیں؟ جہاں تک امر اول کا تعلق ہے نہیں سرتاج صوفیاء حضرت شیخ محی الدین ابن العربي" بتاتے ہیں۔تنزل القرآن على قلوب الأولياء ما انقطع مع كونه محفوظا لهم ولكن لهم ذوق الانزال وهذ البعضهم ) فتوحات کمیته جلد ۲ صفحه ۲۵۸ باب ۱۵۹ یعنی قرآن کریم کا ولیوں کے دل پر نازل ہونا منقطع نہیں ہوا باوجودیکہ وہ ان کے پاس اصلی صورت میں محفوظ ہے ، لیکن اولیاء کو نزول قرآنی کا ذائقہ چکھانے کی خاطر ان پر نازل ہوتا ہے اور یہ شان بعض کو عطا کی جاتی ہے۔