کتاب محفوظ — Page 8
اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ہر سالک کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اے انسان! اگر تو نیکی میں ترقی کرتا چلا جائے تو اللہ تعالیٰ تجھے اتنی عزت دے گا کہ تخاطب بانک اليوم لدينا مكين امين - (فتوح الغيب مقاله ۲۸ صفحہ اے سورہ یوسف) 55 انک اليوم لدينا مکین امین" سورہ یوسف کی آیت ہے جس کا ترجمہ ہے:۔تو آج سے ہمارے ہاں معزز مرتبہ والا اور قابل اعتماد آدمی شمار ہو گا"۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی" فرماتے ہیں کہ خدا تعالی تجھے اس آیت قرآنی سے مخاطب فرمائے گا۔پس یہ سنت ابرار ہے کہ ان پر خدا تعالٰی آیات قرآنیہ الہانا نازل فرماتا ہے چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب زندگی ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بیٹے کی پیدائش سے قبل انہیں الہام ہوا " انا نبشرک بغلام اسمه يحمى" (مکتوبات امام ربانی فارسی جلد دوم صفحه ۱۳۶ مطبوعہ دہلی) یہ سورہ مریم کی آٹھویں آیت ہے جس کا معنی یہ ہے کہ "ہم تجھے ایک ہونہار بچے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام بیٹی ہے" چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے گھر بیٹا پیدا ہوا اور اس کا نام آپ نے بیکٹی رکھا۔پس کیا حضرت مرزا صاحب کے ان الہامات پر تمسخر کرنے والے حضرت مجدد الف ثانی حضرت سید عبد القادر جیلانی اور حضرت امام ابن العربی پر بھی آیات قرآنیہ پر غاصبانہ قبضہ" کرنے کا الزام لگائیں گے اور ان پر بھی ویسی ہی بدزبانی کرنے کی جسارت کریں گے جیسی کہ حضرت مرزا صاحب پر کرتے ہیں۔۲۔جہاں تک کسی امتی پر ان آیات قرآنیہ کے الہاما نزول کا تعلق ہے جن میں خالصتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا گیا ہے تو مولوی عبد الجبار غزنوی صاحب جو جماعت احمدیہ کے شدید مخالفوں میں سے تھے اور مصنف رسالہ کے بزرگوں میں سے تھے ، بڑی وضاحت سے اپنی کتاب "اثبات الالهام والبیعتہ" میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں ان کی یہ تحریر ان لوگوں کے جواب میں ہے جو برصغیر کے مشہور اور صاحب کشف والہام بزرگ حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کے ان الہامات پر اعتراض کرتے تھے جو قرآنی آیات پر مشتمل