کتاب محفوظ — Page 33
نمبر ۳۔قرآن اور میری وحی ایک ہیں۔۔۔۔۔قرآن کریم اور میری وحی میں کوئی فرق نہیں۔(نزول مسیح صفحہ ۹۹) مصنف رسالہ نے یہ عبارت حضرت مرزا صاحب کی طرف منسوب کی ہے اور حوالہ کتاب نزول امسیح کے صفحہ ۹۹ کا دیا ہے۔قارئین کرام! یہ ساری کتاب دیکھ لیں، کہیں بھی یہ عبارت آپ کو نہیں ملے گی۔اب فیصلہ خود کر لیں کہ یہ مولوی صاحب جھوٹ کے عادی ہیں یا تحریف کے۔یہ مضمون کہیں بھی کسی بھی کتاب میں موجود نہیں البتہ ایک اور بحث ملتی ہے جو اس قرآنی بیان پر مبنی ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ کہ ایسے مومن نہ ہوں جو رسولوں میں فرق کرنے والے ہوں۔اس کے پیش نظر اگر خدا کا کلام کسی پر وحی کی صورت میں نازل ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی وجہ سے اور اس پر ایمان لانے کے لحاظ سے اس میں فرق نہیں کیا جائے گا۔البتہ ایک اور پہلو جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ صاحب وحی کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے فرق پڑ جاتا ہے جو قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا گیا ہے کہ تلک الرسل فضلنا بعضم علی بعض کہ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے اس سے ملتی جلتی کوئی عبارت کہیں سنی یا پڑھی ہے مگر اپنی لاعلمی کی وجہ سے اسے سمجھ نہیں سکے یا محمد اظلم سے کام لے رہے ہیں۔اگر کوئی ان سے پوچھے کہ کیا وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلّم، موسیٰ و عینی و یونس علیہم السلام اور اسی طرح دیگر انبیاء علیہم السلام میں کوئی فرق نہیں سمجھتے تو کیا جواب دیں گے ؟ اگر کہیں کہ کوئی فرق نہیں کرتے تو کیا دوسرے کو حق ہے کہ عوام کو اشتعال دلائے؟ پس جب قرآن کریم کہتا ہے کہ لا نفرق بين احد من رسلہ تو اس کا معنی یہی ہوتا ہے کہ خدا تعالی کی وحی کے امین ہونے کے لحاظ سے ان میں فرق نہیں اور اسی