کتاب محفوظ — Page 32
قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں۔مثلاً یہ آیت ان مذان لساحران۔انسانی نحو کی رو سے ان حزین چاہئے۔منہ۔( حقیقتہ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۷) حضرت مرزا صاحب کے اس عارفانہ کلام میں سوائے اس کے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا کہ انسانی گرائمر کلام الہی کے سامنے عاجز ہے اور قرآنی نظائر کے سامنے انسان کی بنائی ہوئی صرف و نحو کے قواعد اپنی کوتاہ دستی تسلیم کرتے ہیں۔اس لئے قرآن کریم کو اس صرف و نحو پر نہیں پرکھا جائے گا جو انسان کی بنائی ہوئی ہے۔بلکہ اس صرف و نحو کو قرآن کریم پر جانچا جائے گا۔پس قرآن کریم حاوی اور بالا ہے ہر گرائمر پر اور گرائمر کے ہر قاعدہ پر۔پس مولوی صاحب کو اگر جھوٹ لکھتے ہوئے شرم نہیں آئی تو کم از کم کچھ حیا کرتے ہوئے قرآن کریم کے الہی کلام کو انسانی قواعد کا پابند کرنے کی بے باکی تو نہ کرتے۔متعدد جہاں تک اس آیت کریمہ " ان هذان لسحران" کا تعلق ہے جو حضرت مرزا صاحب نے محولہ بالا عبارت میں تحریر فرمائی ہے اس پر یہی بحث امت کے بزرگ مفسرین نے بھی کی ہے جو د کتب تفاسیر میں مذکور ہے۔حضرت امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں حضرت عثمان حضرت عائشہ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت حسن رضی اللہ عنہم سے اس آیت کی قرآت ان هذين لساحران درج کی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں تحویوں نے اختلاف کیا ہے اور اس کی کئی وجوہ بیان کی ہیں جن میں سے اول اور قومی وجہ یہ ہے کہ یہ بعض عربوں کی زبان ہے۔اسے قبیلہ کنانہ اور قبیلہ ربیعہ کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے۔(دیکھیں تفسیر کبیر از امام فخر الدین رازی جلد ۲۲ صفحہ ۷۳ سورة طه زیر آیت هذا مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت) اسی طرح حضرت امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الاتقان میں اسی مضمون کو جو حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے، بڑی شرح وبسط کے ساتھ اور مثالیں دے دے کر بیان فرمایا ہے۔جس سے قرآن کریم کے اعجاز اور انہی کلام کی بے نظیری کا ثبوت ملتا ہے نہ کہ اس کے نقائص اور عیوب ظاہر ہوتے ہیں۔پس یہ مولوی صاحب اگر پھر بھی حملہ کرنے سے باز نہیں آتے تو کیا یہ حضرت عثمان حضرت عائشہ ، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت حسن رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ امت کے مفسرین پر بھی حملہ کرنے کی جسارت کریں گے؟