کتاب محفوظ

by Other Authors

Page 34 of 46

کتاب محفوظ — Page 34

طرح ان پر ایمان لانے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔البتہ صاحب وحی کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے فرق ہو سکتا اور اس لحاظ سے بھی کہ وحی کے پیغام میں عمومیت ہے یا خصوصیت ، وحی کی ماہیت میں بھی فرق ہو سکتا ہے۔حضرت مرزا صاحب جو اپنے آپ کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادنی خادم اور قرآن کریم کا سچا عاشق یقین کرتے تھے۔آپ نے ہرگز کہیں بھی ان معنوں میں قرآن کی وحی سے اپنے پر نازل ہونے والے کلام الہی کا موازنہ نہیں کیا کہ شان اور مرتبہ کے لحاظ کے لحاظ سے آپ پر نازل ہونے والی وحی جو قرآن کریم کے الفاظ میں نہیں تھی نعوذ باللہ قرآن کریم کے ہم پلہ تھی۔لیکن اس نقطہ نظر سے کہ خدا تعالی کی طرف سے نازل شدہ وحی ہے اس پر ایمان لانے کے لحاظ سے فرق کرنے کا کوئی جواز نہیں۔نمبر ۴ میرے الفاظ خدا کے الفاظ ہیں " میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ تھے " ( تذکرہ صفحہ (۲۰) یہ بھی حسب عادت ان مولوی صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔تذکرہ میں کہیں بھی یہ عبارت موجود نہیں اور نہ ہی کسی اور کتاب میں یہ موجود ہے۔البتہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب براحسین احمدیہ حصہ چهارم روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۳ کے حاشیہ میں اس مضمون کی بحث ملتی ہے جو ہم بعینہ اسی طرح درج کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو علم ہو جائے کہ یہ لوگ کس طرح بات کو توڑ مروڑ کر اس کا غلط مفہوم پیش کر کے حضرت مرزا صاحب کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اصل عبارت یہ ہے: " قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں"۔جب آپ نے یہ الہام شائع فرمایا تو : سوال پیش ہوا کہ الہام الہی میں ”میرے" کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے؟ یعنی کس کے منہ کی باتیں؟ فرمایا : "خدا کے منہ کی باتیں"۔اس طرح کے اختلاف ضمائر کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں"۔(بدر ) جولائی ۱۹۰۷ء ، صفحہ ۶) اس واقعہ کے سوا اور کوئی ملتا جلتا مضمون حضرت مرزا صاحب کی کسی بھی