کتاب محفوظ — Page 13
مصنف رسالہ نے بطور اعتراض کے تحریر کی ہیں۔پہلی آیت و ما ارسلنا من رسول ولا نبي الا اذا تمنى القى الشيطان في امنيته ازالہ اوہام ص ۶۲۹ وافع الوساوس ، مقدمہ حقیقت اسلام من ۳۳ روحانی خزائن جلد 3 ص ۴۳۹) مصنف رسالہ لکھتا ہے کہ "من تبلک" کے الفاظ (وما ارسلنا کے بعد) خارج کر کے تحریف لفظی کی ہے۔یہاں یہ آیت درج کرتے ہوئے من قبلک کے الفاظ سمو کتابت کی وجہ سے رہ گئے ہیں جبکہ یہی آیت اسی کتاب میں دوسری جگہ من قبلک کے الفاظ کے ساتھ لکھی گئی ہے۔پھر ایک اور کتاب برا حسین احمدیہ کے صفحہ ۵۴۹ طبع اول کے حاشیہ میں بھی یہ آیت اپنے پورے الفاظ کے ساتھ تحریر شدہ ہے۔نیز بعد کے ایڈیشن میں مذکورہ بالا صفحہ ۴۳۹) (روحانی خزائن جلد ۳) پر کتابت کی اس غلطی کی تصحیح کر لی گئی ہے۔دوسری آیت ان بجاهد والى سبيل الله باموالهم وانفسهم ) جنگ مقدس صفحه ۱۹۴، ۵ جون ۱۸۹۳ ) مصنف رسالہ نے لکھا ہے " و جاهدوا باموالكم وانفسکم کو خارج کر کے فی سبیل اللہ کو آخر سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا ہے"۔مولوی صاحب کا یہ فقرہ ان کی بد دیانتی اور بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قارئین کرام ! حضرت مرزا صاحب نے سورۂ توبہ کے رکوع نمبر ۳ کا حوالہ دیا ہے۔نہ کہ رکوع ۶ کا۔رکوع ۳ میں جو آیت ہے وہاں نہ باموالکم وانفسکم ہے اور نہ ہی فی سبیل اللہ آخر میں ہے بلکہ وہاں الفاظ فی سبیل الله يا موالهم وانفسهم" ہی ہیں۔یعنی فی سبیل اللہ پہلے ہے اور باموالکم وانفسکم کی بجائے باموالهم وانفسهم اس کے بعد ہے۔اب ان مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ یہاں باموالهم وانفسهم کی بجائے باموالكم وانفسکم لکھ دیا جائے اور فی سبیل اللہ کے الفاظ شروع سے اٹھا کر بعد میں لکھے جائیں، قرآن کریم میں تحریف کی جسارت نہیں تو اور کیا ہے۔یہ مولوی صاحب