کتاب محفوظ — Page 12
-2- دوسرا الزام : ( تحریف قرآن حکیم لفظی) مصنف رسالہ نے جماعت احمدیہ پر قرآن کریم میں لفظی تحریف کا الزام لگایا ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر سات آیات پیش کی ہیں۔معزز قارئین! قبل اس کے کہ ہم ان مذکورہ آیات کا نمبردار جائزہ لیں، یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ کتابت کی غلطیاں کسی بھی ضابطے کے تحت تحریف نہیں کہلاتیں۔یہ بات علمائے فن کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے۔تحریف کرنے والا اصل متن کے الفاظ کو جانتے بوجھتے ہوئے تبدیل کرے اور پھر تبدیل کردہ الفاظ کے مطابق اپنا عقیدہ یا موقف بنائے۔اس لئے کسی بھی کتاب یا تحریر میں خصوصاً الہی کتب میں تحریف ایک بڑا گناہ ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو کے کاتب عموماً عربی زبان اور علم الاعراب سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے اگر ان کی کتابت کی غلطیاں ہوں اور باوجود سو احتیاط کے پروف ریڈنگ میں بھی وہ نہ پکڑی جا سکیں، انہیں تحریف قرار دینا سخت نا انصافی ہی نہیں صریح بدیانتی بھی ہے۔حضرت مرزا صاحب کی کتب میں بھی معدودے چند جگہ کتابت کی غلطیاں رہ گئیں لیکن کسی ایک جگہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ ترجمہ اصل آیت کے مطابق نہ ہو اور نہ ہی کسی جگہ استدلال اصل آیات کے مخالف تھا۔دو سرے یہ کہ وہی آیت جس پر تحریف کا الزام دھرا گیا جب اسی کتاب میں یا کسی دوسری کتاب میں درج کی گئی تو بالکل درست اور اصل الفاظ میں درج کی گئی۔مزید برآں یہ کہ جب کبھی بھی علم ہوا کہ کسی جگہ سہو کتابت ہوئی ہے تو اگلے ایڈیشن میں اس کو درست کر دیا گیا۔پس ایسی صورت میں کتابت کی کسی غلطی کو تحریف قرار دینا اخفائے حق نہیں تو کذب صریح ضرور ہے۔اس وضاحت کے بعد ہم اب ان آیات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے ہیں جو