خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 551 of 682

خطبات وقف جدید — Page 551

551 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خرچ کرو گے اس کا اجر تمہیں ملے گا۔(بخاری کتاب الایمان باب ما جاء عن الاعمال بالنية والحسبة۔۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوالدحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے پاس دو باغ ہیں اگر میں ان میں سے ایک باغ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دوں تو کیا مجھے جنت میں ویسا ہی باغ ملے گا۔فرمایا : ہاں۔چنانچہ انہوں نے ایک باغ اسی وقت اللہ کی راہ میں دے دیا۔اور جب گھر جا کر اپنی بیوی کو بتایا تو اس نیک بخت نے بھی اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔حضور ﷺ نے فرمایا: ابوالدحداح کے لئے جنت میں کتنے ہی لہلہاتے باغ ہیں۔(تفسیر کبیر رازی جلد 6 صفحہ 180 زیر آیت من ذا الذي يقرض الله قرضا (البقرة:246)) حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ ہمیں انفاق فی سبیل اللہ کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے بعض بازار جاتے اور محنت مزدوری کر کے تھوڑا سا اناج یا مال حاصل کرتے اور اسے لا کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیتے۔اس وقت غربت کا یہ عالم تھا مگر آج وہ لوگ لاکھوں درہم کے مالک بنے ہوئے ہیں۔(بخاری کتاب الزكوة باب اتقوا النار ولو بشق التمرة) امر واقعہ یہ ہے کہ فی سبیل اللہ انفاق کے نتیجے میں بہت لوگ بہت کثرت سے امیر ہو جاتے ہیں میں نے بھی یہ اپنے ذاتی تجربہ میں دیکھا ہے کہ جن لوگوں کو خدمت کی توفیق ملی ہے، خدا کی راہ میں کچھ دینے کی ، ان کا مال بہت بڑھ گیا ہے۔اتنا کہ مجھے ایک نوجوان نے ایک کروڑ روپیہ بھجوایا کہ اپنی مرضی سے جس مد میں چاہوں میں دے دوں۔یہ اعتماد کا بھی معاملہ ہے۔اگر اعتماد ہو کہ کوئی شخص بد دیانتی نہیں کرے گا تو روپیہ زیادہ دیا جاتا ہے۔چنانچہ وہ میں نے مسجد فنڈ میں ڈال دیا۔پس میں آپ کو بتارہا ہوں کہ انفاق فی سبیل اللہ بہت بڑی چیز ہے۔اسکے نتیجے میں خدا تعالیٰ بےحساب عطا کرتا ہے۔اب دیکھئے بازار جا کر محنت مزدوری کر کے غریب آدمیوں نے جو کچھ کمایا اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا۔مِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ کی ایک یہ بھی تفسیر ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے انہیں دیا ہے یعنی جسمانی طاقت ، مزدوری کی طاقت اسکو بھی خدا کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں ، اب وہ کہتے ہیں کہ اب یہ عالم ہے کہ یہ لوگ لاکھوں درہم کے مالک بن گئے ہیں۔حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: پس خوب یا درکھو کہ انبیاء جو چندے مانگتے ہیں تو اپنے لئے نہیں بلکہ انہی چندہ دینے والوں کو کچھ دلانے کیلئے۔اللہ کے حضور دلانے کی بہت سی راہیں ہیں۔ان میں سے یہ بھی ایک راہ ہے جس کا ذکر پہلے شروع سورۃ میں مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4)