خطبات وقف جدید — Page 552
552 حضرت خلیفہ امسیح الرابع 66 سے کیا۔پھرا تَى الْمَالَ عَلَى حُبّه (البقرہ: 178) میں۔“ یہ جو آیت ہے۔استَى الْمَالَ عَلَى حُبِّہ اس میں دو مضمون ہیں ا تَى الْمَالَ عَلَى حُبّہ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مال خرچ کیا اور ائی الْمَالَ عَلَی حُبِّہ کا مطلب ہے کہ غربت کی وجہ سے مال بہت عزیز تھا اس کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔پھر اسی پارہ میں اَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمْ ( البقر 58 25) سے فرمایا ہے۔جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔اب عطا بھی تو اللہ ہی کی ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے حقیقت یہی ہے کہ جو کچھ عطا ہے اللہ کی ہے۔اللہ سے کیسے چھپا سکتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیا دیا ہوا ہے۔جو کچھ بھی دیا ہے اس کو دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔انجیل میں ایک فقرہ ہے“ حضرت خلیفہ مسیح الاول فرمار ہے ہیں۔وو انجیل میں ایک فقرہ ہے کہ جو کوئی مانگے تو اسے دے۔مگر دیکھو قرآن مجید نے اس مضمون کو پانچ رکوع میں ختم کیا ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ کسی کو کیوں دے؟ سو اس کا بیان فرماتا ہے کہ اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے۔خرچ کرنے والے کی ایک مثال تو یہ ہے کہ جیسے کوئی بیج زمین میں ڈالتا ہے مثل باجرے کے پھر اس میں کئی بالیاں لگتی ہیں۔وَاللَّهُ يُضعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ بعض مقام پر ایک کے بدلہ دس اور بعض میں ایک کے بدلہ سات سو کا مذکور ہے۔یہ ضرورت، اندازہ ، وقت وموقع کے لحاظ سے فرق ہے“۔حقائق الفرقان جلد اول صفحه : 420) اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: صدقات ایسی چیزیں ہیں کہ ان سے دنیا وی منازل طے ہو جاتی ہیں۔اخلاق فاضلہ پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر بڑی بڑی نیکیوں کی توفیق دی جاتی ہے۔“ الحکم 24 فروری 1901 ء نمبر 7 جلد 5 صفحہ 2) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں۔چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 361) اس چندہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایمان پہلے سے ترقی کر جاتا ہے۔جتنا چندہ دو گے اتنا ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایمان بڑھتا جائے گا۔حضور نے ایک دفعہ نماز عشاء سے قبل اپنی مجلس میں فرمایا۔