خطبات وقف جدید — Page 548
548 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اب یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہامات کے ذریعہ جو روپیہ ملا ہے یہ اب تو بہت زیادہ ہو گیا ہے۔اس وقت تو چند روپے بھیجنے والے کہا کرتے تھے ہمارا نام نہ لینا لیکن اب لکھو کھا روپیہ مجھے بھجوایا جاتا ہے اور اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا نام نہ لینا۔ایک موقع پر ایک دوست نے پچاس لاکھ روپیہ مجھے بھجوایا اور یہ کہا کہ یہ آپ خرچ کریں خدا کی راہ میں اور میرا نام نہ لیں۔تو اب دیکھیں کہیں پانچ پانچ روپے یا دس دس روپے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتنی قدر فرمائی تھی اور اب پچاس پچاس لاکھ بھیجنے والے بھی اپنا نام بتانے کی اجازت نہیں دیتے۔تو یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انہی تھوڑے سے روپوؤں کی برکت ہے۔اس سے نفس کے دھوکہ میں مبتلا نہ ہوں یہ روپے وہی روپے آرہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا گیا تھا۔اب اس کے بعد میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں۔وقف جدید کا چوالیسواں سال 31 دسمبر 2001ء کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا ہے اور ہم یکم جنوری 2002 ء سے وقف جدید کے پینتالیسویں سال میں داخل ہو گئے ہیں۔وقف جدید کی تحریک 27 / دسمبر 1957ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے جاری فرمائی تھی۔پھر 1966ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے وقف جدید میں دفتر اطفال جاری فرمایا۔آغاز میں تو یہ تحریک صرف پاکستان اور ہندوستان کیلئے ہی تھی پھر میں نے 27 دسمبر 1985ء کو اس تحریک کو پوری دنیا کیلئے وسیع کر دیا اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے 110 ممالک اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔۔رپورٹوں کے مطابق 31 دسمبر 2001 ء تک وقف جدید کی کل وصولی 13 لاکھ 82 ہزار پاؤنڈ ہے۔یہ وصولی گزشتہ سال کی وصولی سے ایک لاکھ 30 ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔الحمد للہ۔وقف جدید میں شامل ہونے والے مخلصین کی تعداد 3 لاکھ 55 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔اور صرف گزشتہ ایک سال کے دوران وقف جدید میں 57 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔اس اضافہ میں ایک بڑی تعداد ہندوستان سے تعلق رکھتی ہے۔اور ہندوستان کے نومبائعین سے تعلق رکھتی ہے۔امریکہ کی جماعت نے امسال بھی ہمیشہ کی طرح وقف جدید میں دنیا بھر کی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اپنا اولیت کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔پاکستان نے حسب سابق اپنی دوسری پوزیشن کو قائم رکھا ہے تا ہم اپنے ٹارگٹ سے بڑھ کر نمایاں قربانی کی توفیق پائی ہے۔جرمنی کی جماعت گزشتہ کئی سالوں سے تیسرے نمبر پر آتی رہی ہے لیکن اس سال ما شاء اللہ انگلستان کی جماعت نے جرمنی کو 54 ہزار 200 پاؤنڈ سے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور بالآخر دنیا بھر کی جماعتوں میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔