خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 547 of 682

خطبات وقف جدید — Page 547

547 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رات میں نے خواب دیکھا کہ کچھ روپیہ کی کمی اور سخت مشکلات پیش ہیں اور بہت فکر دامنگیر ہے۔میں کسی کو کہتا ہوں کہ ایک کاغذ بناؤ جس میں لکھا ہو کہ جمع یہ تھا اور خرچ یہ ہوا۔کوئی میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اور سامنے ایک شخص کچھ حساب کے کا غذات لکھ رہا ہے۔میں نے شناخت کیا کہ یہ تو کچھی داس جمع خرچ نویس ہے جو کسی زمانہ میں خزانہ سیالکوٹ میں اسی عہدہ پر نو کر تھا۔میں نے اس کو بلانا چاہا۔وہ بھی نہ آیا، لا پرواہ رہا۔اور میں نے دیکھا کہ روپیہ کی بہت کمی ہے۔کسی طرح بات نہیں بنتی اسی اثنا میں ایک صالح مرد سادہ طبع سادہ پوش آیا۔اس نے اپنی بھری ہوئی مٹھی روپیہ کی میری جھولی میں ڈال دی اور ایسے جلدی چلا گیا کہ میں اس کا نام بھی نہیں پوچھ سکا۔مگر پھر بھی روپیہ کی کمی رہی پھر ایک اور صالح مرد آیا جو محض نورانی شکل سادہ طبع کوٹلہ کے ایک صوفی کی شکل کے مشابہ تھا جس کا نام غالباً کرم الہی یا فضل الہی ہے۔جس نے کر نہ بیچ کر ہمیں روپیہ دیا تھا۔صورت انسان کی ہے مگر علیحدہ خلقت کا آدمی معلوم ہوتا ہے۔اس نے دونوں ہاتھ روپیہ سے بھر کر میری جھولی میں وہ روپیہ ڈال دیا۔اور وہ بہت سا روپیہ ہو گیا میں نے پوچھا: آپ کا نام کیا؟ اس نے کہا: نام کیا ہوتا ہے، نام کچھ نہیں۔میں نے کہا: کچھ بتلا ؤ نام کیا ہے؟ اس نے کہا: ٹیچی۔“ ( تذکره صفحه 444-445) یہ وہ لفظ ہے الہام کا جس پہ غیر احمدی علماء بہت مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ اس کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمایا ہے: پیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346) اور میں اس وقت چشم پر آب ہو گیا کہ ہماری جماعت میں ایسے بھی ہیں جو اس قدر روپیہ دیتے اور نام نہیں بتلاتے اور ساتھ ہی کہتا ہوں کہ یہ تو آدمی نہیں ہے، یہ تو فرشتہ ہے۔اور جب بہت سے مال کا نظارہ میرے سامنے آیا۔میں نے کہا: میں اس میں سے منظور محمد کی بیوی کو دوں گا کہ وہ حاجتمند ہے اور جب میں نے یہ خواب دیکھا، اس وقت رات کا ایک بج کر اس پر 35 منٹ زیادہ گزر چکے تھے۔“ 66 (تذکرہ صفحہ 445)