خطبات وقف جدید — Page 47
47 حضرت مصلح موعود خطبہ جمعہ فرموده 7 مارچ 1958 ء بمقام ناصر آباد سندھ) سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: یہاں ہماری اسٹیٹس کو قائم ہوئے چوبیس پچیس سال گذر چکے ہیں، ناصر آباد اسٹیٹ تو 1935ء میں قائم ہوئی تھی لیکن احمد آباد 1933ء سے اور محمود آباد1934ء سے قائم ہیں۔اس کے بعد محمد آباد 1937 ء میں اور بشیر آباد 1939ء میں قائم ہوئیں مگر باوجود اس کے کہ ان اسٹیوں کو قائم ہوئے ایک لمبا عرصہ گذر چکا ہے اب تک یہاں جماعت کے بڑھنے کی رفتار بہت کم ہے میرا خیال ہے کہ اگر ان ساری اسٹیوں کے احمدی ملالئے جائیں تو باوجود اس کے کہ ان میں بہت سے مہاجر بھی ہیں، پھر بھی ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ احمدی نہیں ہوں گے حالانکہ جس رفتار سے احمدیوں کو بڑھنا چاہئے تھا اگر اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایک احمدی سالانہ ایک ایک آدمی بھی جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا تو اب تک یہاں پچاس ہزار سے زیادہ احمدی ہوتے لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں اور ہماری جماعت کے قیام کی جو اصل غرض ہے۔اس کی پروا نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ان کی حالت ایک جیسی چلی جاتی ہے۔انسان کو چاہئے کہ یا تو وہ اخلاص کے ساتھ ایک سچائی کو قبول کرے اور یا پھر اسے چھوڑ دے خدا تعالیٰ کو کسی بندے کی احتیاج نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص مرتد ہو جائے تو ہم اس کے بدلہ میں ایک نئی قوم لے آئیں گے جو خدا اور اس کے رسول سے محبت رکھنے والی اور اس کے دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے والی ہوگی۔پس آپ لوگ احمدی بن کر اس وقت جماعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہے۔اگر خدانخواستہ مرتد ہو کر الگ ہو جاتے تو اس کا یہ فائدہ پہنچتا کہ ایک ایک شخص کے بدلہ میں جیسا کہ قرآنِ کریم نے بتایا ہے ایک ایک قوم آجاتی جو بعض دفعہ کئی کئی لاکھ کی بھی ہوتی ہے۔سندھ میں ہی چانڈیہ، خاصخیلی، گرگیز ، اور بر وغیرہ کئی تو میں ہیں اور ہر قوم کے پانچ پانچ سات سات ، آٹھ آٹھ لاکھ افراد ہیں بلکہ چانڈیوں کی تعداد تو اس سے بھی زیادہ ہے سو آپ لوگوں کو اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنی چاہئے اور اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر جو اپنے فرائض کی طرف پوری توجہ نہیں کر رہے وقف جدید کی تحریک جاری کی ہے جس کے لئے خود میں نے بھی دس ایکڑ زمین کا وعدہ کیا ہے اور ارادہ ہے کہ یہاں بھی