خطبات وقف جدید — Page 46
46 حضرت مصلح موعود جائے تو 70,000 روپیہ ماہوار یا ساڑھے آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوگا۔بظاہر یہ رقم بہت بڑی نظر آتی ہے لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے کبھی مایوس نہیں کیا۔اس لئے ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ روپیہ ہمارے لئے مہیا فرمادے گا۔بلکہ ہمیں تو امید ہے کہ ایک دن اس سے بھی زیادہ روپیہ آئے گا اگر ڈیڑھ ہزار سنٹر قائم ہو جائیں تو کراچی سے پشاور تک ہر پانچ میل پر ایک سنٹر قائم ہو جاتا ہے۔بنگال سے بھی اب ایسی خبریں آ رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی لوگوں کو وقف جدید کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے چنانچہ ایک سکول کے مدرس نے لکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار ہوں میں نے اسے لکھا ہے کہ تم کام شروع کر دو ہم وہیں تمہیں اپنا معلم مقرر کر دیں گے۔غرض یہ تحریک خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے دوست اس کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ایک دوسرے کو تحریک بھی کرتے رہیں۔قرآن کریم نے مومن کا یہی کام بتایا ہے کہ وہ نیکیوں میں آگے بڑھتا ہے اور جب کوئی پیچھے رہ جائے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے پھر اور آگے بڑھتا ہے اور جو پیچھے رہ جائے اسے پھر اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس طرح وہ قدم بقدم آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ساتھ ہی اپنے پیچھے رہ جانے والے بھائیوں کا بھی خیال رکھتا ہے اور ان کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ دنیا میں نیکی ہی نیکی قائم ہو جاتی ہے۔یہی فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقره: 149) کے معنے ہیں۔پس اگر ڈیڑھ ہزار سینٹر قائم ہو جائے تو ہمارے ملک کا کوئی گوشہ اصلاح وارشاد کے دائرہ سے باہر نہیں رہ سکتا۔ویسٹ پاکستان کا رقبہ تین لاکھ مربع میل سے زائد ہے اور ایسٹ پاکستان کا 54 ہزار مربع میل ہے۔ہماری سکیم ایسی ہے جس کے ماتحت چار چار، پانچ پانچ مربع میل میں ایک ایک سنٹر قائم ہو جاتا ہے پھر اور ترقی ہو تو دو دو مربع میل میں بھی ایک ایک سنٹر مقرر کیا جا سکتا ہے بلکہ اور ترقی ہو تو ایک ایک میل کے حلقہ میں بھی سنٹر قائم ہوسکتا ہے اور اگر ایک ایک میل میں ہم سنٹر قائم کر دیں تو پھر ہمارے ملک میں کوئی جگہ ایسی باقی نہیں رہتی جہاں خدا اور رسول کی باتیں نہ ہوتی ہوں جہاں قرآن کی تعلیم نہ دی جاتی ہو اور جہاں اسلام کا پیغام نہ پہنچایا جاتا ہو۔روزنامه افضل 15 مارچ 1958 ، صفحہ 3-4)