خطبات وقف جدید — Page 513
صلى الله 513 حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پیاری پیاری باتیں انسانی صفات کے حوالے سے کہی ہیں تا کہ انسان ان کو سمجھ بھی تو سکیں ورنہ اللہ کی صفات کی تفصیلات بیان کرتے تو کوئی بھی نہ سمجھ سکتا۔اس تمہید کے ساتھ اب پھر دوبارہ سن لیجئے۔آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جو ایک کھجور بھی اللہ کے حضور پیش کرے اللہ اسے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر اسے اسکے دینے والے کے لئے بڑھا دیتا ہے جیسا کہ تم میں سے ایک اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے ، اسے بڑا کرتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ اس کھجور کو جو بالکل معمولی ہوتی ہے اس کو بڑھانا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح بڑھاتا ہے جیسے چھوٹا سا بچھڑا تمہیں ملے اور تم اس کی پرورش کرو، اسے بڑھالو، مگر وہ تو ایک حد تک ہی بڑھ سکتا ہے۔ایک مضبوط توانا بیل بن جائے گا اس سے زیادہ تو نہیں ہوسکتا مگر جب اللہ پرورش پر آتا ہے تو فرمایا کہ یہاں تک کہ وہ کھجور پہاڑ جتنی ہو جائے گی۔(بخارى كتاب الزكواة باب الصدقة من كسب طيب) یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کی نسبت کے لئے کیسی پیاری حدیث ہے۔انسانی عطا کے مقابل پر اللہ کی عطا کو دیکھنا ہو تو یہ مضمون ہے۔جس کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور اس پہلو سے سب چندہ دہندگان کو جو بڑھے ہیں خواہ انھوں نے چند روپے ہی وقف جدید میں پیش کئے ہیں بہت بہت مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ انشاء اللہ ان کے اموال میں بھی برکت ڈالے گا اور روحانی جزاء میں تو لا متناہی برکتیں ہیں۔ایک حدیث قدسی ہے صحیح مسلم سے لی گئی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم تو دل کھول کر خرچ کر۔حدیث قدسی سے مراد وہ کلام ہے جو رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ نے براہِ راست سنایا اور قرآن کریم کے علاوہ بھی مسلسل آپ پر وحی ہوا کرتی تھی۔وہی قرآن الگ چیز ہے اور وحی کا مسلسل جاری رہنا ایک الگ مضمون ہے۔تو ایسی وحی جس کا ذکر آنحضرت ﷺ اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں اس کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے۔تو حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابنِ آدم تو دل کھول کر خرچ کر جس کے نتیجے میں اللہ بھی تجھ پر خرچ کرے گا۔(صحیح مسلم کتاب الزكواة باب الحث على النفقة وتبشير المنفق بالخلف) اب وہ کتنا خرچ کرے گا۔نسبت کی بات ہے آدم جتنا بھی چاہے دل کھول کر خرچ کرے اللہ کو ہرا نہیں سکتا اس لئے جب وہ دل کھول کے خرچ کرے گا تو اسی محاورے کے لحاظ سے اللہ بھی پھر دل کھول کر خرچ کرے گا اور کھجور تو بہر حال بڑھے گی اگر دل کھول کر دیا ہے تو وہ اندازہ کریں کہ کیا کچھ بڑھ جائے گا اور ہمارا تجربہ ہے کہ یہ بڑھنا صرف آخرت سے مقدر نہیں ہے اس دنیا میں بھی بڑھتا ہے کیونکہ اس دنیا میں بڑھنے کے نتیجے میں مومنوں کا آخرت پر ایمان بڑھتا ہے۔ان کو کامل یقین ہوتا ہے کہ جس نے دنیا میں