خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 514 of 682

خطبات وقف جدید — Page 514

514 حضرت خلیفہ مسیح الرابع وعدہ پورا کر دیا ہے وہ آخرت میں کیوں وعدہ پورا نہیں کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "جو شخص ایک پیسہ کی حیثیت رکھتا ہے وہ سلسلے کے مصارف کے لئے ماہ بماہ ایک پیسہ دیوے اور جو شخص ایک روپیہ ماہوار دے سکتا ہے وہ ایک روپیہ ماہوارا دا کرئے“۔ی نصیحت کرنے کے بعد آپ فرماتے ہیں: 66 عزیزو ! یہ دین کے لئے اور دین کی اغراض کے لئے خدمت کا وقت ہے۔“ اور جیسا کہ یہ بات اس وقت جماعت احمدیہ پر سب سے زیادہ اطلاق پاتی تھی آج بھی اسی طرح یہ مضمون جماعت احمدیہ پر اطلاق پاتا ہے کہ محض اللہ کی خاطر خرچ کرنے والی اور جماعت ہے کونسی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: عزیز و ا یہ دین کے لئے اور دین کی اغراض کے لئے خدمت کا وقت ہے اس وقت کو غنیمت سمجھو کہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 83) اب بظاہر لگتا ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے ساتھ وقت اٹھ جائے گا، یہ مراد نہیں ہے یہ تسلسل جاری ہے اگر ایک دفعہ یہ اُٹھ گیا پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا۔اسکو اٹھنے دینا ہی نہیں اپنی جانوں کے ساتھ، اپنی دلی تمناؤں کے ساتھ ، اپنی دعاؤں کے ساتھ اس طرح لٹک جائیں اس کے ساتھ کہ یہ وقت آپ سے کبھی بھی نہ اٹھے اور جب آپ سے نہیں اٹھے گا تو دنیا سے اس وقت کی برکتیں بھی پھر کبھی نہیں اٹھیں گی۔چنانچہ فرماتے ہیں: چاہئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگاوے اور بہر حال صدق دکھاوے تافضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام ان لوگوں کے لئے تیار ہے جو اس سلسلے میں داخل ہوئے ہیں“۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 83) یہ آغاز کی باتیں تھیں جب زکوۃ کے متعلق لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہاں خرچ کریں۔زکوۃ خرچ کرنا دراصل بیت المال ہی کا کام ہوتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے سب سے اوّل زکوۃ کا ذکر فرمایا ہے جو قرآنی حکم ہے اور یہ مضمون سمجھا رہے ہیں کہ زکوۃ کا خرچ کرنا مرکز کا کام ہوا کرتا