خطبات وقف جدید — Page 512
512 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع یہ دے رہی ہیں۔ہم ان کو مبارک باد دیتے ہیں اور ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔اللہ آئندہ بھی ان کو ہمیشہ نیکیوں میں آگے بڑھاتا چلا جائے۔اب چندہ بالغان پاکستان۔اوّل کراچی ہے، دوم ربوہ اور سوم لا ہور۔یعنی بڑی عمر کے احمدی جو چندہ دیا کرتے ہیں ان کو چندہ بالغان کہا جاتا ہے اور اطفال جو چندہ دیتے ہیں اسے چندہ اطفال کہتے ہیں۔اس کے مختلف دفاتر ہیں اس کی تفصیل میں میں آپ کا سر نہ کھپاؤں گا۔کیونکہ دفاتر کو سمجھنا ایک دو تین چار یہ عامۃ الناس کے لئے مشکل ہے۔سیدھی بات یہ ہے کہ چندہ بالغان ، چندہ اطفال۔چندہ بالغان میں جو پاکستان کے اضلاع کی پوزیشن ہے۔شہروں میں کراچی تو اوّل ربوہ دوم ، لا ہورسوم۔اور اضلاع کے لحاظ سے راولپنڈی ، اسلام آباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، شیخو پورہ، بہاولنگر ، گوجرانوالہ، عمرکوٹ ، گجرات اور کوئٹہ یہ اسی ترتیب سے ہیں۔چندہ دفتر اطفال میں جماعتوں کی پوزیشن یہ ہے۔اوّل ربوہ۔اس میں جماعت ربوہ نے کراچی کو پیچھے کر دیا ہے۔دوم کراچی اور سوم لاہور۔چندہ دفتر اطفال میں اضلاع کی پوزیشن یہ ہے اول گوجرانوالہ، پھر سیالکوٹ ، پھر راولپنڈی ، پھر شیخو پورہ، پھر فیصل آباد ، پھر اسلام آباد، پھر بہاولنگر ، پھر سرگودھا ، پھر عمر کوٹ ، پھر ملتان۔اس میں جو پوزیشنوں کا ذکر کیا جارہا ہے اس میں ایک بات یادرکھ لیں کہ یہ پوزیشنیں عملاً مالی قربانی کی تفصیل نہیں بیان کرتیں کیونکہ بعض ان میں سے ضلعے بہت چھوٹے ہیں اور چھوٹا ہونے کی وجہ سے انھیں دوسرے بڑے اضلاع پر یہ برتری کام کے لحاظ سے حاصل ہے کہ وہ بہت زیادہ محنت کریں تب جا کر معیار اونچا ہوتا ہے اور چند آدمیوں تک پہنچ کر معیار کو اونچا کرنا نسبتا آسمان ہے مگر بہر حال ایک پوزیشن انھوں نے حاصل کی تھی جس کا ذکر ضروری تھا۔اب میں چند احادیث نبوی جو مالی قربانی سے تعلق رکھنے والی ہیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔بخاری کتاب الزکوۃ ، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے پاک کمائی میں سے ایک کھجور بھی اللہ کی راہ میں دی اور اللہ پاک چیز ہی کو قبول فرمایا کرتا ہے یقیناً اللہ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا۔اب دائیں ہاتھ سے کسی چیز کو لینا یا دینا جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت خوشی اور دلی طمانیت کے ساتھ ایک چیز کو آپ کریں تو دایاں ہاتھ بڑھا کر چیز کو وصول کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے جب ہاتھ کی بات ہوتی ہے تو یہ ہر گز ہا تھ مراد نہیں۔اللہ تعالیٰ کا رجحان ، اس کا جذبہ ہے اور جب جذ بہ کہتے ہیں تو پھر بھی عام جذبہ انسانی مراد نہیں تو یہ تمہیدیں مجبوراً کرنی پڑتی ہیں کہ اللہ اور انسانی صفات میں بہت فرق ہے لیکن باتیں ہم انسانی صفات کے حوالے سے ہی کرتے ہیں اور آنحضرت علی