خطبات وقف جدید — Page 404
404 حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایک ضروری منصوبہ ہے جو شروع کیا جا چکا ہے۔لیکن یہ قادیان تک محدود نہیں رکھنا۔علمی اور صحت کے یہ دونوں منصوبے ہندوستان کی باقی جماعتوں میں بھی ممتد ہوں گے۔کیونکہ ان کی بھی محصور کی سی ایک کیفیت ہے۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں مسلمان بعض راہنماؤں کی غلطیوں کی وجہ سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھے جا رہے ہیں۔ان میں جماعت احمد یہ بھی ان تکلیفوں میں حصہ دار بنی ہوئی ہے۔اگر چہ غلط پالیسیوں کے ساتھ جماعت احمدیہ کا کوئی تعلق نہیں لیکن دوسری مصیبت یہ ہے کہ پاکستان کی طرح کے ملاں وہاں بھی جماعت کے خلاف نفرت کی تحریکات چلاتے اور بھڑ کاتے ہیں۔اور کوئی ہوش نہیں کر رہے کہ باہر کی دنیا میں کیا گندا اثر پیدا کر رہے ہیں۔اسلئے احمدیوں کے لئے دوہری مشکلات ہیں اور وہ ان مخالفتوں میں محصور ہو چکے ہیں۔چنانچہ بعض جماعتوں کے ساتھ جب تفصیلی انٹرویو ہوئے تو پتہ لگا کہ واقعہ ان کی محصور کی سی کیفیت ہے وہ عام روز مرہ کے اپنی زندگی کے حقوق سے کل یہ محروم ہیں۔مسلمان ان سے کتنی کتراتے ہیں۔ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نہیں رکھتے کیونکہ ان کو نفرتوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ہندو ویسے ہی دور ہٹتے چلے جارہے ہیں اور دن بدن ہندو قوم پرستی یا تشدد پرستی کی جو تحریکات ہیں وہ زیادہ قوی ہوتی جا رہی ہیں اور یہ دراصل پاکستان اور بعض دوسرے مسلمان ممالک کی جہالت کا طبعی نتیجہ ہے۔سو رنگ میں ان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اسے قومیائی حدود میں جکڑو نہیں اور غیروں کے مقابل پر ایسے ذرائع اختیار نہ کرو کہ وہ سمجھیں کہ تم اپنے مذہب کو زبردستی ان پر ٹھونستے اور ان کے حقوق سے محروم کرتے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو اس کا رد عمل پیدا ہوگا اور اگر اس کے بعد ہندو منوسمرتی کی تعلیم کی طرف رخ کریں اور یہ اعلان کریں کہ اگر پاکستان میں مسلمانوں کو حق ہے کہ قرآن کی تعلیم کو ساری قوم پر ٹھونس دیں خواہ کوئی اسے قبول کرے نہ کرے تو ہمارا کیوں حق نہیں کہ ہم منوسمرتی کی تعلیم کو ساری ہندو ستانی قوم پر ٹھونسیں خواہ کوئی قبول کرے یا نہ قبول کرے، پس غلطیوں کے یہ جو دور رس نتائج ہیں ان سے آنکھیں بند ہیں ، دو قدم سے زیادہ دیکھ نہیں سکتے ، اور یہ جو نظر کی کمزروی کی بیماری ہے یہ جب راہنماؤں میں ہو جائے تو ساری قوم کے لئے ہلاکت کا موجب بنتی ہے۔بہر حال ہندوستان میں جو یہ شدید رو چل پڑی ہے یہ بہت ہی خطرناک عزائم کو ظاہر کر رہی ہے اور دن بدن مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ رواسی طرح چلتی رہی تو سارے مسلمان وہاں محصور ہوکر رہ جائیں گے۔اور احمدیوں پر تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دوہری حصار ہے۔ایک حصار غیروں کی غلطی کی وجہ سے ہے اور ایک حصار دل کی مجبوری کی وجہ سے خدا کی خاطر جو بھی مخالفت ہو انہوں نے بہر حال قبول کرنی ہے اور بڑی وفا کے ساتھ احمدیت سے وابستہ رہنا ہے۔یہ وہ اصحاب الصفہ ہیں جو وسیع تر دائرے سے تعلق رکھنے