خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 403 of 682

خطبات وقف جدید — Page 403

403 حضرت خلیفہ المسح الرابع چیزوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔اچھے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ اچھے کھلاڑی بھی پیدا ہوتے ہیں۔اور لازما عقل اور ذہن کی صحت کے ساتھ جسمانی صحت کی طرف بھی یہ ادارے توجہ دیتے ہیں۔اب قادیان میں دوسری مشکل یہ در پیش ہے کہ ان کیلئے کھیلوں کا کوئی بھی انتظام نہیں ہے۔میں نے سکول کے بچوں سے بچیوں سے سوالات کئے (لجنہ سے ، خدام الاحمدیہ سے ) وہاں جائزے لئے تو یہ دیکھ کر بہت ہی تکلیف ہوئی کہ غیروں نے تو تعلیم کی طرح کھیلوں کی طرف بھی توجہ چھوڑ دی ہے اور قادیان کے سکولوں کالجوں میں کوئی بھی معیار نہیں رہا۔نہ تعلیم کا نہ کھیل کا ہر لحاظ سے پیچھے جاپڑے ہیں۔حالانکہ اللہ کے فضل سے علاقے میں صحت کا معیار بہت بلند ہے۔اور اگر جذ بہ ہوتا ، ایک انتظام کے تحت علم اور صحت دونوں کی طرف توجہ کی جاتی تو قادیان ابھی بھی خدا کے فضل سے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ پنجاب میں اسی طرح چھکے جس طرح پہلے چمک کر دکھا چکا ہے تو کھیلوں کی طرف ہمارے اندرون میں یعنی قادیان کے اس حصہ میں بھی کوئی توجہ نہیں جس میں درویش بستے ہیں۔اور اس طرح بچوں کی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں۔لڑکیوں کے لئے کھیلنے کا کوئی انتظام نہیں محدود علاقے میں قید ہیں۔پس تعلیمی منصوبے کے علاوہ ایک منصو بہ یہ بنایا گیا ہے کہ ان کیلئے ہر قسم کی صحت جسمانی کے سامان مہیا کئے جائیں۔بہترین جمنیزیم بنائے جائیں۔لجنہ کیلئے ایک کھلی زمین خرید کر یا اگر کوئی موجودہ زمین اس کام کیلئے مل سکتی ہو تو اسے احاطہ کر کے لڑکیوں اور عورتوں اور طالبات وغیرہ کیلئے وقف کر دیا جائے۔وہاں ہر قسم کی جدید کھیلوں کے انتظام ہونے چاہئیں۔اور باہر سے کوئی احمدی بچیاں کسی فن میں مہارت رکھتی ہیں ، ہندوستان میں بھی کئی کھیلوں کی اچھی اچھی ماہر بچیاں ہیں تو وہ وہاں اپنا وقت لگائیں، وہاں جا کر ان کو تعلیم و تربیت دیں تو ان کیلئے کچھ تو ایسا سامان ہونا چاہیے جس سے وہ دل کی فرحت اور سکینت محسوس کریں۔محض ایک سنجیدہ ماحول میں جو روحانی سہی لیکن اتنا تنگ ماحول ہے کہ اس میں زندگی گھٹی گھٹی محسوس ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں ان بچیوں کو اور لڑکوں اور بڑوں کو زندگی بسر کرنے پر مجبور رکھنا یہ ظلم ہے اس لئے عالمی جماعت کا یہ فرض ہے کہ ان کی اس قسم کی علمی اور صحت جسمانی کی ضرورتیں ضرور پوری کریں اور اس شان سے پوری کریں کہ علاقے میں اس کی کوئی مثال نہ ہو۔پس اس بارہ میں میں ہدایات دے آیا ہوں کہ اب تفصیلی منصوبے بنانا تمہارا کام ہے۔بناؤ اور جو بھی بناؤ گے،انشاء اللہ عالمی جماعت فراخدلی کے ساتھ ان پر عملدرآمد کرنے میں تمہاری مدد کرے گی۔اور میری خواہش ہے کہ آئندہ جلسہ سے پہلے پہلے عورتوں اور مردوں کیلئے یہ سپورٹس کمپلیکس مکمل ہو چکے ہوں یا مکمل نہ پیج تو نظر آنے شروع ہوں۔اور ان کا فیض دکھائی دینے لگے۔ہمارے احمدی بچوں کے چہروں پر صحت دکھائی دے۔اس لئے یہ بھی وہ