خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 405 of 682

خطبات وقف جدید — Page 405

405 حضرت خلیفہ المسح الرابع والے اصحاب الصفہ ہیں۔پس قادیان کے لئے بہبود کی جو سکیمیں ہیں ان سے ہندوستان کی باقی جماعتوں کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔اور وہاں بھی صوبائی امار تیں قائم کر کے ( جہاں نہیں تھیں وہاں قائم کر دی گئی ہیں اور جہاں تھیں ان کو بیدار کیا گیا) یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جہاں اقتصادی ترقی کے منصوبے بناؤ وہاں تعلیمی ترقی کے بھی منصوبے بناؤ۔چنانچہ کشمیر میں خدا کے فضل سے پہلے ہی بہت سے سکول بڑی اعلیٰ روایات کے ساتھ چل رہے ہیں۔باقی صوبوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اسی طرح مدارس قائم کریں اور جہاں جہاں ممکن ہوگا کالجز قائم کریں۔ٹیکنیکل کالجز کی وہاں بڑی ضرورت ہے۔اور قادیان میں بھی انشاء اللہ خیال ہے کہ اعلیٰ پائے کا ٹیکنیکل کالج بھی قائم کیا جائے گا۔تو سارے ہندوستان کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو ایک کروڑ سالانہ کی رقم بھی کوئی چیز نہیں ہے۔لیکن اگر وقف جدید کے ذریعہ ایک سال کے اندر اندر ایک کروڑ کی رقم بھی مہیا ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ شروع کرنے کے لحاظ سے خدا کے فضل سے کچھ نہ کچھ سرمایہ میسر آجائے گا۔اور باقی اللہ تعالیٰ اور رستے عطا کرتا رہتا ہے۔جماعت احمدیہ کی عالمی قربانیوں کا جو مجموعہ ہے اس میں سے جہاں مرکزی منصوبوں پر خرچ ہو رہے ہیں ، مختلف ممالک پر خرچ ہو رہے ہیں ایک حصہ اس میں سے بھی قادیان اور ہندوستان کی احمدی جماعتوں کیلئے مزید مخصوص کیا جا سکتا ہے۔تو آپ دعاؤں میں یا درکھیں۔اور مالی قربانیوں کی جہاں تک توفیق ملے اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔وقف جدید کی مالی قربانی پر نظر ثانی کریں۔بہت سے احمدی ہیں جو غربت اور تنگی کی حالت میں بھی ہر چندے میں شامل ہیں۔وہ تقریباً اپنی استطاعت کی حد کو پہنچے ہوئے ہیں۔لیکن میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی خاطر وہ جو قربانیاں پیش کرتے ہیں یا کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں برکت دے گا اور ان کی حدود وسیع تر کرتا چلا جائے گا۔وہ آیت جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی اس سے پہلے اس مضمون کی آیات ہیں جو میں اب آپ کے سامنے رکھ کر اس خطبہ کو ختم کروں گا۔جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کیلئے جو خدا کی خاطر خود محصور ہو گئے اور جن کے رزق کی راہیں تنگ ہو گئیں یا بند ہوگئیں جولوگ قربانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دین اور دنیا دونوں جگہ جزاء دینے والا ہے۔اور انکے اموال کو رکھتا نہیں بلکہ ان میں بہت برکت دیتا ہے۔پس وہ برکت جو درویشوں کے ذریعے دوسروں کو پہنچتی ہے اس مضمون کو قرآن کریم نے یہاں ایک خاص رنگ میں کھول کر بیان فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اس نصیحت کا اس آیت سے ہی تعلق ہے جس کا میں نے شروع میں ذکر کیا تھا تمہیں کیا پتہ کہ کن لوگوں کی وجہ سے تمہارے اموال میں برکت پڑ رہی ہے۔پس جو لوگ ان غریبوں پر خرچ کرتے ہیں جو خدا کی خاطر