خطبات وقف جدید — Page 402
402 حضرت خلیفہ امسیح الرابع سے متعلق ہونا چاہے تو ہو سکتا ہے۔اور اس پر پھر اسی ادارے کا قانون صادر ہوگا جس سے وہ متعلق ہے۔تو اسلئے جماعت احمدیہ کی راہ میں ایک نہایت اعلیٰ پیمانے کا تعلیم اور تدریس کا نظام جاری کرنا مشکل نہیں ہے اور قانو نا کوئی روک نہیں ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ نمونہ جب قائم ہوگا تو باقی سکھ اداروں کو بھی ہوش آئے گی اور وہ بھی ہماری تقلید کی کوشش کریں گے اور قومی فائدہ پہنچے گا۔تو اس ضمن میں جب باہر سے اساتذہ بلانے کا یا اور خدمات کا وقت آئے گا تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ساری دنیا کی جماعتیں اس میں حصہ لیں گی۔سردست تو میں دعا کی تحریک کر رہا ہوں کہ بہت با قاعدگی سے سنجیدگی سے دل لگا کر دعا کریں کہ قادیان کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے کیلئے خدا پھر ہمیں توفیق بخشے کہ پرانے تعلیمی اداروں کی روایات کو زندہ کر سکیں اور جو کر دار وہ پہلے ادا کرتے رہے ہیں از سر نو پھر وہ یہ کردار ادا کرسکیں۔قادیان کو تو ساری دنیا میں علم کا مرکز بننا ہے اور خدا نے اس کام کیلئے اسے چن رکھا ہے۔پارٹیشن سے پہلے کی بات کر رہا ہوں کہ جن دنوں میں قادیان ایک چھوٹی سی بستی تھا مگر علمی لحاظ سے اس کی بڑی شان تھی اور پنجاب میں دور دور تک قادیان کے سکول سے نکلے ہوئے طلباء کی عزت کی جاتی تھی۔احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ کالجوں میں داخل کرنے کی راہ میں کوئی روک نہیں ہوا کرتی تھی۔انگریزی زبان کا معیاراتنا بلند تھا اور کھیلوں کا معیار اتنا بلند تھا کہ ان دو غیر معمولی استثنائی امتیازات کی وجہ سے قادیان کے طلباء جب چاہیں گورنمنٹ کالج میں ، ایف سی کالج میں کسی بہترین ادارے میں داخل ہونا چاہیں تو ان کو عزت کے ساتھ لیا جاتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خدا کے فضل سے یہ دونوں امتیاز حاصل تھے کہ انگریزی زبان میں بھی غیر معمولی ملکہ اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمایا تھا، ایک قدرت حاصل تھی اور فٹ بال کے بھی بہترین کھلاڑی تھے یہاں تک کہ جب میں گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا ہوں تو اس وقت تک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تصویران طلباء کی صف میں لٹکی ہوئی تھی جنہوں نے گورنمنٹ کالج سے غیر معمولی اعزازی نشانات حاصل کئے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے انگریز پروفیسر (غالبا سٹیفنس نام تھا مجھے پوری طرح یاد نہیں ) اس نے ایک دفعہ ان سے کہا کہ قادیان میں تم لوگ کیا کرتے ہو وہاں تو میں نے دیکھا ہے کہ دو چیزوں کے کارخانے لگے ہوئے ہیں۔اچھے انگریزی دان اور اچھے کھلاڑی۔جو بھی قادیان کا طالب علم آتا ہے اس کا زبان کا معیار بہت بلند ہے اور کھیلوں کا معیار بہت بلند ہے۔اور کھیلوں کا معیار واقعہ اتنا بلند تھا کہ قادیان کی سکول کی ٹیم پنجاب کے چوٹی کے کالجوں سے ٹکرایا کرتی تھی اور اکثر ان کو شکست دے دیتی تھی۔قادیان کی کبڈی کی ٹیم سارے پنجاب میں اول درجے کی ٹیم تھی۔تو کھیلوں کا معیار بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ بلند تھا اور ان دونوں