خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 401 of 682

خطبات وقف جدید — Page 401

401 حضرت خلیفہ مسیح الرابع قریب میں الگ سکول تعمیر کیا جائے جو بہترین معیار کا ہو۔مگر یہ سوال ہے کہ اگر سکول بہترین معیار کا بنا دیا جائے اور کالج جس حال میں ہے اسی حال میں ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔سکول کے چند سالوں کے بعد بچوں کو پھر باہر نکلنا پڑے گا اور پھر غیر فضا سے بداثرات قبول کرنے کے احتمال باقی رہیں گے اور محض سکول سے کسی مقام کی شان نہیں بڑھا کرتی اس کے ساتھ ایک تعلیمی تسلسل ہونا چاہیے۔آئندہ تعلیم کا انتظام ، اس سے آگے تعلیم حتی کہ اس معیار کو زیادہ سے زیادہ بلند کیا جائے اور پھر وسیع کیا جائے۔یہ مقاصد ہیں جن کے پیش نظر ہمیں قادیان میں تعلیمی سہولتیں مہیا کرنی ہیں اور بہت اعلی پیمانے کی تعلیمی سہولتیں مہیا کرنی ہیں۔میرے ذہن میں جو نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ زبانوں کے لحاظ سے بھی یہ بہترین سکول اور بہترین کالج ہو جا ئیں۔اگر جرمن زبان پڑھانی ہے تو باہر سے جرمن قوم کے لوگ وہاں جا کر ٹھہریں۔اور خدا کے فضل سے ایسے موجود ہیں جو میری تحریک پر اپنے آپ کو پیش کر دیں گے۔انگریز انگریزی پڑھائیں۔عرب عربی مائیں۔اور اسی طرح مختلف زبانوں کے ماہرین جو اپنے ہاں اہل زبان کہلاتے ہیں وہ جا کر ان بچوں کو تعلیم دیں تو اس پہلو سے پنجاب میں خصوصیت کے ساتھ اتنا بڑا خلاء ہے کہ اگر ہمیں یہ توفیق ملے تو انشاء اللہ تعالی بڑی دور دور تک اس تعلیمی ادارے کا شہرہ ہوگا کیونکہ بدنصیبی سے سکھوں نے قوم پرستی کے تابع ہوکر پنجابی پر اتنا زور دے دیا ہے کہ اب وہاں تقریباً تمام اداروں میں پنجابی میں ہی تعلیم دی جارہی ہے اور باقی زبانیں عملاً کالعدم ہیں۔یا انہیں کالجوں سے اگر با قاعدہ دیس نکالا نہیں ملا تو ان کی حوصلہ افزائی کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے باقی زبانیں عملاً مر چکی ہیں یا محض رسمی طور پر پڑھائی جاتی ہیں۔اور اس کا شدید نقصان سکھ قوم کو پہنچے گا۔میں نے ان کے لیڈروں کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ تم لوگ بہت ہی غلط فیصلہ کر چکے ہو۔پنجابی کو مقام دو بے شک، اسکی خدمت کرو، یہ تمہارے لئے جائز ہے۔قومی لحاظ سے ضروری بھی ہو گا لیکن بین الاقوامی زبانوں کو چھوڑ کر اگر صرف پنجابی میں تعلیم دی تو باہر نکل کر یعنی پنجاب سے باہر جا کر یا تم جتنی تعلیم دے سکتے ہو ان حدود سے اوپر جا کر یہ بچے کیا کریں گے۔دنیا میں سائنس کی ساری کتابیں یا انگریزی میں ملیں گی یا جرمن میں ملیں گی یا فرنچ میں ملیں گی یا JAPANIES ملیں گی اور پنجابی میں تو کوئی کتاب نظر نہیں آئے گی۔اور دنیا کے دوسرے ادارے ان کو قبول ہی نہیں کریں گے تو یہ دراصل ایک وسیع پیمانے پر علمی خود کشی ہے۔مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہندوستان کی حکومت کا ایک قانون یہ ہے کہ کسی صوبے میں جومرکزی تعلیمی پالیسی ہے اس صوبے سے متعلق ادارے اس تعلیمی پالیسی کے اختیار کرنے کے پابند ہیں لیکن ہر صوبے میں تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے کے امکانات ہیں۔اسلئے پنجاب میں اگر کوئی تعلیمی ادارہ دہلی کے تعلیمی نظام سے متعلق ہونا چاہے تو وہ ہوسکتا ہے۔علی گڑھ کے تعلیمی نظام