خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 400 of 682

خطبات وقف جدید — Page 400

400 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے فضل سے آغاز ہو چکا ہے۔ایک اور پہلو تعلیم کا ہے۔اس حصہ میں میں جماعت کو دعاؤں کی تحریک کرتا ہوں کہ ابھی بہت سی روکیں ہیں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کے سکول اور کالج کا تعلق ہے اگر چہ حکومت نے صدرانجمن کے نام یہ جائیدادیں بحال کر دی ہیں اور اس میں ہم ہندوستان کی عدلیہ کے بڑے ممنون ہیں جنہوں نے بہت ہی اعلی انصاف کیساتھ کا روائی کی۔کسی تعصب کو انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور اس ثبوت کے مہیا کرنے پر کہ وہ صدر انجمن احمد یہ جو ان چیزوں کی مالک تھی بلا انقطاع قادیان میں موجود رہی ہے اور وہی مالک ہے اس لئے اس کو مہاجر قرار دے کر تمہیں ان جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔اس دلیل پر ہندوستان کی عدلیہ نے انصاف کا بہت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور یہ جائیدادیں بحال کر دیں۔لیکن جب تک یہ جائیدادیں بحال ہوئیں اس وقت تک بہت سے اداروں پر دوسرے قابض ہو چکے تھے۔مثلاً تعلیم الاسلام کالج جو پہلے تعلیم الاسلام سکول ہوا کرتا تھا اسے اس وقت سکھوں کا ایک ادارہ ہے جو چلا رہا ہے۔نام اسکا مجھے یاد نہیں۔غالباً خالصہ نام سے کوئی ادارہ ہے اور وہ انہی کے قبضہ میں ہے۔مگر صورت حال یہ ہے کہ اس کا اتنا معیار گر چکا ہے کہ دیکھ کر رونا آتا ہے۔جس حال میں ہم نے تقسیم کے وقت اس عمارت کو چھوڑا تھا اس حال سے بہت زیادہ بدتر ہو چکی ہے۔لیکن اس کو بحال کرنے کیلئے یا اس میں مزید اضافے کی خاطر کوئی بھی خرچ نہیں گیا۔یہاں تک کہ جو کرہ زیر تعمیر تھا جس کی چھت پڑنے والی تھی ، جس حالت میں اینٹیں پڑی تھیں اسی طرح آج بھی پڑی ہیں۔اور وہ تالاب جسے پیچھے چھوڑ کر آئے تھے جو سکول کا سوئمنگ پول (SWIMMING POOL) تھا بعد میں کالج کا بن گیا اسے اس زمانہ میں ٹینک ( TANK) کہا کرتے تھے اور اس کی حالت یہ ہے کہ اس میں اب گندا پانی جمع ہے کوئی دیکھ بھال کا انتظام نہیں۔لیکن وہ وقار عمل سے اور بڑی دعاؤں کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔اسکی تعمیر ایسی اعلیٰ اور پختہ ہے کہ میں نے پھر کر دیکھا ہے ایک اینٹ بھی ابھی اپنی جگہ سے نیچے نہیں بیٹھی حالانکہ کھلے آسمان کے نیچے بغیر دیکھ بھال کے پڑا ہوا ہے۔تو اصل دعا تو یہی کرنی چاہیے کہ قادیان میں تعلیمی اداروں کو بحال کرنا ہے تو یہ عمارتیں جماعت کو واپس ملیں۔اس سلسلہ میں کچھ گفت و شنید کا میں وہاں آغاز کر آیا ہوں۔کچھ یہاں سے سکھوں کی اس لیڈرشپ سے بھی بات کریں گے جو باہر ہے اور پنجاب میں بھی اس تحریک کو چلایا جائے گا۔اگر وہ ہمیں یہ ادارہ واپس کر دیں تو بہت وسیع کھیل کے میدان بھی اس کے ساتھ ہیں اور ایسا شاندار کالج دوبارہ وہاں قائم کیا جاسکتا ہے جو تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں ایک شہرت اختیار کر جائے۔دور دور سے طلباء وہاں آئیں، بہترین اس کے معیار ہوں۔اور اسکے ساتھ ہی سکول کا قیام بھی تعلق رکھتا ہے۔پہلے خیال تھا کہ کالج کے