خطبات وقف جدید — Page 387
387 حضرت خلیفتہ مسیح الرابع تجربہ ہر جماعت کا چندہ دینے والا اپنے روز مرہ کے چندوں میں کر کے دیکھے تو وہ محسوس کرے گا کہ مالی قربانی سے اسے نبی عظمتیں اور نئی رفعتیں نصیب ہو رہی ہیں۔اور خدا سے اس کا تعلق دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔پس ایسی مالی قربانی نہ کریں جس کے نتیجہ میں خدا سے تعلق کم ہو۔ایسی مالی قربانی کریں جس کے نتیجہ میں آپ خدا کے پیارے بنتے چلے جائیں۔اور وہ آپ کا نگہدار ہو جائے آپکی ہر ضرورت کا کفیل ہو جائے۔وہ اپنے ذمہ یہ لے لے کہ اس بندے کی ہر ضرورت میں پوری کروں گا۔کیونکہ اس نے میری خاطر اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے میرے حضور کچھ مالی قربانی پیش کی ہے۔خدا سے زیادہ شکر گزار اور کوئی نہیں ہے۔اسی لئے اس کا نام شکور رکھا گیا ہے۔حالانکہ اگر آپ گہرائی سے دیکھیں تو شکر کے مضمون کا خدا پر اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔اور ظاہری نظر سے ہم اس معاملہ پر غور نہیں کرتے۔شکر تو اس کا ادا کیا جاتا جس نے کوئی احسان کیا ہو۔خدا پر تو کوئی احسان ہو نہیں سکتا۔جو کچھ ہے اس نے عطا کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔سب کچھ تری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے پھر وہ شکور“ کیوں ہے؟ ”شکور‘ ایک محسن کے طور پر ہے۔اس کا شکر بھی احسان کی ایک بہت ہی اعلی درجہ کی قسم ہے۔اس شکر کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔اپنے بندے پر احسان فرماتا ہے کہ اسے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بخشے اور پاک جذبوں سے خرچ کرنے کی توفیق بخشے۔پھر شکر کے ساتھ اسے قبول فرماتا ہے۔اور اس کی ضروریات کا کفیل بنا اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔خدا تعالی کے شکور ہونے کا یہ جو مضمون ہے یہ اتنا لطیف ہے کہ اسپر آپ جتنا غور کریں اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی محبت آپ کے دل میں اچھلتی چلی جائے گی۔پس چندے دیں تو اس ادا سے دیں کہ ہر چندہ آپ کے طرز فکر کو خدا کی محبت کی سمت رواں کر دے۔آپ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات کے مضمون پر مزید غور کیا کریں اور آپ کی مالی قربانی آپ کو وہ کچھ عطا کر جائے جسے دنیا کی ساری دولتیں بھی خرید نہ سکتی ہوں ایک شخص چند کوڑی خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ایک ہے جو چند لا کھ پیش کر دیتا ہے۔لیکن خدا تو نہ چند کوڑی میں خریدا جا سکتا ہے نہ چند لاکھ میں خریدا جاسکتا ہے۔تمام دنیا کی دولتیں خود اسی نے عطاء کر رکھی ہیں۔ساری دنیا کی دولتیں بھی اس کے حضور پیش کر دیں تو خدا خریدا نہیں جاسکتا۔مگر یوسف تو سوت کی ایک آئی پر بک گیا اور آج تک دنیا اس کے قصے سناتی ہے۔لیکن یوسف کو خدا سے کیا نسبت ہے ، خدا تو ایک آئی سے کم رزق کے ایک دانے پر بھی بکنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔اگر وہ محبت اور خلوص کے ساتھ اس کے حضور پیش