خطبات وقف جدید — Page 388
388 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کیا جائے۔تو اپنی عظیم پر رفعت قربانیوں کو اس طرح ضائع نہ کریں۔جب خدا کے نام پر آپ سے مانگا جائے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے حالات پر غور کر کے اس سے تعلق بڑھانے کیلئے ، اس سے پیار کے رشتے قائم کرنے کیلئے پیش کیا کریں۔پھر دیکھیں آپ کی تنگ دستیاں بھی دور ہونی شروع ہو جائیں گی اور آپ کے رزق میں غیر معمولی وسعت ملی گی اور ایسی وسعت نہیں ملے گی جو آپ کے لئے ابتلاء لیکر آئے۔ایسی وسعت ملے گی جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بدلیاں آپ کیلئے اٹھا لائے گی اور آپ ہمیشہ خدا کی رحمت کے سائباں تلے رہیں گے۔آپ پر خدا کی برکتیں برسا کریں گی۔آپ کی مصیبتیں کم ہوتی چلی جائیں گی۔آپ کی راحت کے سامان بڑھتے چلے جائیں گے اور کچھ عرصہ کے بعد آپ اپنے آپ کو ایک محفوظ انسان سمجھیں گے۔جہاں بھی رہیں گے وہ آپ کے لئے دارالامان ہو گا۔قادیان دارالامان میں آپ کیلئے ایک یہ بھی پیغام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان قربانیوں اور قربانیوں کی ان اداؤں کے ساتھ اپنے گرد ایک دارالامان خدا سے طلب فرمایا۔یعنی زبان حال سے اور اللہ تعالیٰ نے اس دارالامان کو پہلے الدائر کی صورت میں عطا فر مایا پھر اس کا درجہ بڑھاتا چلا گیا۔یہاں تک کہ یہ وعدہ فرمایا کہ جو تیرا روحانی فرزند ہے، تجھ سے روحانی تعلق بھی رکھتا ہے، وہ بھی تیرے گھر کی امان میں ہے۔پس قادیان کی امان کو آپ سارے ہندوستان پر پھیلا سکتے ہیں۔یہ امان ایسی نہیں جو یہاں جڑ پکڑ کر یہیں کی ہورہی ہے۔یہ ایسا پودا ہے جو آپ کے گھروں میں لگ سکتا ہے۔اور ہراحمدی ہر ایک گھر کو دارالامان بنا سکتا ہے۔مگر اس کا طریق وہی ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سے جب ایسا تعلق قائم کرلیا جائے کہ آپ پیار کے نتیجہ میں اس کی خاطر اٹھتے بیٹھتے اور قربانیاں کرتے ہوں محض رسمی طور پر نہیں محض ظاہری اطاعت کے طور پر نہیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو امان دی جاتی ہے ہر قسم کے مصائب سے امان دی جاتی ہے، ہر قسم کی مشکلات سے امان دی جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کا ایک پیار کرنے والا ، آپ کی نگہداشت کرنے والا ایک موجود ہے۔ہمیشہ وہ آپ کے سر پر کھڑا ہے اور آپ کا ساتھ دینے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسا خدا کا ہو جائے وہ جب سوتا ہے تو خدا اس کیلئے جاگتا ہے، جب اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کا دشمن اس کیلئے کیا تیاری کر رہا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے دشمن کی شرارتوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کے توڑ کے منصوبے بنارہا ہوتا ہے اور دشمن کے ہر وار کو اس کے پڑنے سے پہلے ہی معطل اور نا کام کر دیتا ہے۔پس اس خدا سے ہم نے تعلق باندھا ہے ، اسی خدا سے پنے تعلق کو استوار کرنا ہے۔وقف جدید کے سلسلہ میں بھی اور دیگر چندوں کے سلسلہ میں بھی میں