خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 386 of 682

خطبات وقف جدید — Page 386

386 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کرنے والا ہے ایسے موقع پر اس کی ناراضگی کا ظاہری اظہار کوئی نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ کوئی شخص اتنا دور چلا جائے کہ وہ دین کا دشمن ہو پھر بعض دفعہ اسکو دنیا میں عبرت کا نشان بنایا جاتا ہے لیکن یہ تو بہت ہی بعید کی بات ہے۔میں کسی احمدی کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ نعوذ باللہ اس حال کو پہنچ جائے پس وہ لوگ جن کو خدا نے زیادہ دیا ہے خواہ وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں ، خواہ ان تک مال کے انسپکٹر ان کی آواز پہنچتی ہو یا نہیں یا مرکز کے ناظر ان کے خطوط پہنچتے ہوں یا نہیں۔انکو یا درکھنا چاہیے کہ خدا جانتا ہے اور خواہ آپ ظاہری قربانی کریں، اعلانیہ قربانی کریں یا مخفی قربانی کریں خدا کے علم میں ہے کہ کون میرا بندہ مجھ سے محبت رکھتا ہے۔میرے پیار کے نتیجہ میں وہ میرے حضور کچھ پیش کرتا رہتا ہے۔اس علم کو آپ اپنے کانشنس ، دماغ میں اگر محسوس کریں یعنی با شعور طور پر ہر قربانی کرنے والا قربانی کرتے وقت یہ جانتا ہو کہ میرے مولیٰ کی مجھ پر نظر ہے تو اس کی قربانی کا معیار یکدفعہ بدل جائے گا۔اس میں ایک انقلاب بر پا ہو جائے گا۔کیونکہ وہ شخص جسے کوئی دیکھ رہا ہو اور خصوصا وہ دیکھنے والا ہو جو اُس سے بلند تو قعات رکھتا ہو جس کا اس شخص کے دل میں احترام ہو۔جسے دیکھا جا رہا ہے تو اس وقت اُس کا رد عمل بالکل مختلف ہوتا ہے اس کی ادائیں بدل جاتی ہیں۔بچے ، دیکھا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے جن کی عزت کرتے ہیں کتنے مہذب اور بن ٹھن کر تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔گفتگو کا سلیقہ بھی بالکل مختلف لیکن اُدھر استاد کمرے سے باہر نکلا یا ماں چلی گئی تو اچانک شور شرابا بر پا ہو جاتا ہے۔دیکھنے کا جو مضمون ہے یہ ایک بہت ہی اہم مضمون ہے۔اسے سمجھے بغیر اخلاص میں بچی ترقی ہو نہیں سکتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک بہت ہی پاکیزہ اور عظیم الشان کلام میں بار بار جو یہ فرمایا کہ سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی تو اس میں صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا میری نگہداشت کر رہا ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ میں ہر آن اس کے سامنے کھلا پڑا ہوں۔میری زندگی کا کوئی شعبہ بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں ہے۔چھپا ہوا نہیں ہے۔میں کیسے غلطی کر سکتا ہوں مجھے تو تو فیق ہی نہیں ہے میں تو ہر وقت دھوپ میں بیٹھا رہتا ہوں۔میرا زندگی کا کوئی حصہ چھپا ہوا مخفی ، پر اسرار نہیں ہے۔ہر وقت میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔پس ان معنوں میں جب خداد یکھتا ہے تو انسان کے طرز عمل میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اسکے نتیجہ میں۔پھر دوسرے معنے میں بھی دیکھتا ہے یعنی ہر وقت اس کی پیار کی نظر اپنے ایسے بندے پر رہتی ہے، نگہداشت کی نظر اس پر رہتی ہے اور اس کے دشمن اس پر وار نہیں کر سکتے۔مگر خدا کی حفاظت ان کے واروں کو نا کام اور نا مراد کر دیتی ہے۔یہ نگہداشت کی نظر اس پہلی نظر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔اسکی کوکھ سے پھوٹتی ہے اور لوگ اس مضمون کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں کتنی سعادتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس اس کا