خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 337 of 682

خطبات وقف جدید — Page 337

337 حضرت خلیفة المسیح الرابع ہے جب مومن سے خدا کی راہ میں چندہ مانگا جاتا ہے تو اپنے ایمان اور تقویٰ اور خلوص کی وجہ سے خواہ اس مضمون کی سمجھ آئے یا نہ آئے کہ خدا کو کیا ضرورت ہے۔مومن خدا کی راہ میں مالی قربانی کرتے تو ہیں لیکن بسا اوقات یہ سوال اٹھتے ہیں اور قرآن کریم نے ان سوالات کا مختلف جگہ ذکر فرمایا ہے کہ کیا خدا غریب ہے؟ خدا کو کیا ضرورت ہے کہ مومنوں سے قربانی لے؟ ساری کائنات اسکی ہے اور وہ کیوں ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ تکلیف اٹھا کر تنگی ترشی میں بھی ہم اسکی راہ میں کچھ خرچ کریں۔اس سوال کے مختلف جوابات قرآن کریم میں ملتے ہیں۔یہاں جو مضمون ہے اسے قانون قدرت کے حوالے سے سمجھایا گیا ہے۔فرمایا تم دنیا پر، کائنات پر غور کر و تمام کائنات خدا نے اس طرح پیدا کی ہے کہ وہ چیزوں کو پہلے سمیٹتا ہے پھر بڑھا کر واپس کرتا ہے۔زمیندارے پر آپ غور کریں تو آپ کو یہ سارا مسئلہ سمجھ آجائے گا۔آپ اگر زمیندارہ جانتے ہیں یا تجربہ ہے تب بھی ورنہ سنا تو سب نے ہوا ہے کہ زمیندار اس وقت اپنا بیج زمین میں ڈالتا ہے جب اس کو اس بیچ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے جب اس کی فصل کا پھل اختتام تک پہنچ رہا ہوتا ہے جب اس کو کھانے کیلئے اپنی دیگر ضروریات کے لئے اس پیج کی براہ راست یا اس کو بیچ کر اس کی قیمت کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔وہ وقت ہے نئی فصل بونے کا۔تو انتہائی ضرورت کے وقت جو دانے اس کے گھر بچتے ہیں ان کو وہ مٹی میں ملا دیتا ہے۔یہ ہے قبض کا مضمون اور کامل یقین رکھتا ہے کہ اس کے بغیر اسکی آئندہ سال کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔وہ کامل یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو قبض کرتا ہے وہ بضط بھی کرتا ہے اور بضط کے مضمون پر یقین رکھے بغیر کوئی زمیندار بھی اپنا قیمتی بیج مٹی میں نہیں ملا سکتا۔آپ دیکھتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے خدا تعالیٰ اسی مضمون کو ہر سال مختلف شکلوں میں عملی صورت میں دنیا پر ظاہر کرتا چلا جارہا ہے۔انسان تو بالا رادہ اپنے بیچ کومٹی میں ملاتا ہے لیکن اس سے پہلے ارب ہا ارب سال سے جب سے نباتات پیدا ہوئی ہے یہی مضمون ہے جو رو کشائی کر رہا ہے، جو ایک چلتی ہوئی فلم کی طرح ہر سال سینکڑوں، ہزاروں ،لاکھوں کروڑوں صورتوں میں ظاہر ہوتا چلا جا رہا ہے۔درخت جب پھلوں سے بھر جاتے ہیں تو پھر وہ اپنے پھلوں کو مٹی میں ملا دیتے ہیں ہوائیں ان کو بکھیر دیتی ہیں اور بظاہر سب کچھ ضائع ہو جاتا ہے لیکن انہی دانوں سے پھر اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور درخت اگتے ہیں اور سارا نظام کائنات اسی طرح جاری و ساری رہتا ہے تو جب خدا تعالیٰ نے کائنات کو اس طرح بنایا اور اسی اصول اور اسی مضمون پر کائنات نے ارتقا اختیار کیا ہے اور مجموعی طور پر انسان کی دولت یا حیوانات کی دولت بڑھتی چلی گئی ہے کم نہیں ہوئی۔تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ روحانی نظام میں اس