خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 338 of 682

خطبات وقف جدید — Page 338

338 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع آزمودہ نسخے کو بھلا دے یا رد فرما دے۔پس روحانی دنیا میں بھی مالی قربانی کے جو مطالبے ہیں وہ دراصل اسی خدا کے مطالبے ہیں جس نے آپ کو دنیا میں مٹی میں بیچ ملانا اور پھر فصلیں کاٹنے کا گر سکھایا ہے۔فرمایا: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَنصُطُ تم کیوں اس بات کو نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ قانون جاری فرمایا ہوا ہے کہ جولوگ اپنا ماحصل یعنی اپنی دولت کو خدا کے سپر د کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کر واپس کیا کرتا ہے فرمایا پھر جس کے لئے وہ چاہتا ہے اسکو بہت بڑھا کر عطاء فرماتا ہے۔وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ تم اس کی طرف لو ٹ کر جانے والے ہو۔اسکا پہلے مضمون سے کیا تعلق ہے؟ اس کا پہلے مضمون سے دو طرح کا تعلق ہے۔اول یہ کہ ہم سب کچھ اپنا جو خدا کی کائنات کو واپس کرتے ہیں یا ہم سے واپس کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوا کرتا بلکہ دوبارہ نئی صورتوں میں اٹھتا ہے، نئی صورتوں میں نکلتا ہے تو فرمایا تم بھی جو مٹی میں ملائے جاؤ گے یہ تمہارے لئے کوئی انجام نہیں ہے یہ تمہارے لئے نئی پیدائش کا دن ہو گا تم خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جس طرح خدا تعالیٰ اپنی طرف لوٹائی جانے والی چیزوں کو بڑھایا کرتا ہے تمہیں بھی نئی خلق عطا ہوگی جو پہلے سے زیادہ وسیع ہوگی ہر پہلو سے وہ زیادہ شاندار اور زیادہ لطیف ہوگی اور جو کچھ تم قانون قدرت کو اپنے وجود کے طور پر واپس کرو گے اسے خدا تعالیٰ بہت بڑھا کر اور نشو ونما دیکر پھر ظاہر فرمائیگا۔دوسرا معنی اس آیت کے اس حصے کا یہ ہے کہ جو کچھ تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ ساری جزا تمہیں اس دنیا میں مل جاتی ہے اس دنیا میں بھی ضرور جزا ملتی ہے اور خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والوں کو بہت بڑھا کر عطا کیا جاتا ہے۔لیکن اگلی دنیا میں بھی تمہارے لئے یہ خزا نے جمع ہورہے ہیں اگر انسان کسی ایسی جگہ خزانے بھجوا دے جہاں خود نہ پہنچ سکتا ہو تو وہ خزا نے گویا اس کے ہاتھ سے ضائع ہو گئے ، وہ ہمیشہ کے لئے کھوئے گئے تو آیت کا یہ حصہ انسان کو یقین دلاتا ہے کہ تمہاری امانت جہاں پہنچ رہی ہے وہاں تم بھی جانے والے ہو اور جو کچھ تم بھیجو گے اسکو بھیجے ہوئے کی نسبت ہزاروں لاکھوں کروڑوں بلکہ ان گنت گنا زیادہ اس دنیا میں پاؤ گے جس میں آخر تم نے لوٹ کر جاتا ہے۔پس یہ چھوٹی سی آیت بہت وسیع مطالب اپنے اند رکھتی ہے اور مالی قربانی کا فلسفہ ہمیں سمجھاتی ہے صرف مالی قربانی کا نہیں بلکہ دیگر قربانیوں کا فلسفہ بھی سمجھاتی ہے ہم خدا کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں یقین کریں کہ ہر وہ چیز جو ہم خرچ کرتے ہیں اسے برکت دی جائے گی ، اسے بڑھایا جائے گا اور واپس ہمیں لوٹایا جائیگا یعنی ہم تو خدا کی طرف لوٹیں گے مگر خدا ہر وہ چیز جو ہم خدا کی طرف بھیجتے ہیں اسے ہماری طرف لوٹا تا چلا جائیگا۔اس پہلو سے نئی صدی کے حالات کے ساتھ بھی اس مضمون کا تعلق ہے۔جو کچھ خدا نے ہمیں دیا