خطبات وقف جدید — Page 336
336 حضرت خلیفہ امسیح الرابع احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ کاموں کے لحاظ سے ابھی ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔بہت سے پروگرام تھے جن کی طرف میں نے بارہا جماعت کو توجہ دلائی۔بہت سے پروگرام ہیں جو اس وقت زیر عمل ہیں اور جماعت دنیا میں کوشش کر رہی ہے کہ اگلی صدی کے طلوع سے پہلے پہلے ہم ان پروگراموں کو پائیہ تکمیل تک پہنچا دیں لیکن یہ کام اتنا زیادہ ہے اور کئی جگہ ایسے خلا دکھائی دے رہے ہیں کہ سال کے آغاز پر میں سب سے پہلے جماعت احمدیہ کو دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعہ مدد مانگیں۔میں نے بارہا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اگر چہ مایوس کسی قیمت پر کسی صورت میں بھی نہیں لیکن پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جتنی تیاری ہمیں کرنی چاہیے تھی ویسی تیاری ہم نہیں کر سکے اور اس وقت ہمیشہ طبیعت دعا کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔دعا دو طرح سے کرشمے دکھایا کرتی ہے۔اول یہ کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے وقت کے لحاظ سے دعا کی برکت سے تھوڑے وقت میں اس سے بہت زیادہ ہو جاتا ہے جتنی عام حالات میں انسانی عقل توقع رکھتی ہے۔دوسرے دعا کی برکت سے ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی گزشتہ کوتاہیوں پر بھی پردہ ڈالتے ہوئے اپنے فضل کے ساتھ ایسے ثمرات ، ایسے پھل عطا فرما دیتا ہے جن کے ہم حقدار نہیں تھے جن کیلئے ہم نے محنت نہیں کی تھی کوشش نہیں کی تھی۔محض اللہ کے فضل کے ساتھ وہ سارے پھل عطاء ہوتے ہیں جن کی عام حالات میں توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔تھوڑے کو وہ قبول کرتا ہے اور بہت زیادہ کر دیتا ہے یہی وہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی ہے چونکہ اس کا مالی قربانی سے تعلق ہے اس لئے وقف جدید کے سال نو کے آغاز کا اعلان کرنے سے پہلے میں نے اس آیت کی تلاوت کرنا مناسب سمجھا کہ اب اسکے متعلق میں کچھ بیان کروں۔اس کا تعلق چونکہ ایک عمومی اصول سے ہے جس کا اطلاق ہماری موجودہ حالت پر نئی صدی کے طلوع سے پہلے کے حالات پر بھی ہوتا ہے۔اس لئے یہ آیت اپنے مضمون کے لحاظ سے اس تمام صورت حال پر یکساں روشنی ڈالے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً کون ہے جو خدا کو قرضہ حسنہ دے تا کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کیلئے بہت بڑھا دے۔وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ اور اللہ تعالیٰ چیزیں وصول بھی کرتا ہے قبض بھی کرتا ہے، ان کو کھینچتا بھی ہے اور تبصط ان کو پھیلا بھی دیتا ہے۔قبض کا مضمون ایسا ہے جیسے انسان مٹھی میں کوئی چیز سمیٹ لے اور پھر مٹھی کھول کر اس کو پھیلا دے اسکو بضط کہتے ہیں تو وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَنصُطُ خدا تعالیٰ چیزیں سمیٹتا بھی ہے اور ان کو بڑھا کر پھیلا کر واپس بھی کیا کرتا ہے وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اور اسکی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔اس آیت میں ایک الجھے ہوئے مضمون کو سلجھایا گیا ہے جو بسا اوقات انسانی ذہن کو پریشان کرتا