خطبات وقف جدید — Page 334
334 حضرت خلیفہ امسیح الرابع دلوائیں۔میرے پیش نظر صرف روپیہ نہیں ہے بلکہ جس مقصد کی خاطر روپیہ حاصل کیا جاتا ہے وہ مقصد بہر حال اولیت رکھتا ہے یعنی تربیت اور اللہ سے تعلق۔چندہ دینے والے کا سب سے بڑا پھل ، سب سے بڑا اجر اس دنیا میں یہ ہے کہ وہ خدا کے قریب ہو جاتا ہے اور جو بچوں سے چندے دلوائے جاتے ہیں ان کے اوپر اس قربت کا اثر ساری زندگی رہتا ہے بچپن کی نیکی ایسی چھاپ ہے جو ان کے بڑھنے کیساتھ خود ہی بڑھتی رہتی ہے اس کا نقش مٹنے کی بجائے اور زیادہ زندگی میں گہرا جمتا چلا جاتا ہے۔اس لئے اپنے بچوں کو باشعور طور پر وقف جدید میں شامل کریں یعنی وہ بچے جو باشعور طور پر داخل ہو سکتے ہیں ورنہ تو پہلے دن کے بچے کو بھی مائیں شامل کر دیتی ہیں۔بعض مائیں تو پیدا ہونے والے بچے کو بھی شامل کر دیتی ہیں جو ان کے پیٹ میں ہے اور وعدے لکھوا دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس روح کو اور بڑھائے لیکن جو باشعور بچے ہیں ان کے ہاتھ سے دلوانا انکی تعداد میں اضافہ کرنا آپ کیلئے دوہرے اجر کا موجب بنے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔